TariqBrohi

کیا جبل ِرحمت کی کوئی فضیلت و خصوصیت ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سعودی مستقل فتویٰ کمیٹی اس بارے میں کہتی ہے:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے جبلِ عرفات پر چڑھنے کی ترغیب دی ہو، جو لوگوں میں "جبلِ رحمت” کے نام سے مشہور ہو چکا ہے۔ اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ یا سنت تھی کہ اپنے حج کے دوران اس پہاڑ پر چڑھیں، اور نہ ہی آپ نے اسے کوئی مناسکِ حج بنایا۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُم

اپنے مناسکِ حج مجھ سے سیکھ لو۔

اور اسی طریقے پر خلفائے راشدین، تمام صحابہ کرام اور بطور احسن ان کی پیروی کرنے والے  گامزن رہے۔ وہ اپنے حج کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا  کرتے ہوئے نہ تو اس پہاڑ پر چڑھتے تھے اور نہ ہی اسے مناسکِ حج کا حصہ سمجھتے تھے۔

جو بات ثابت ہے وہ بس یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  اس پہاڑ کے نیچے بڑی چٹانوں کے پاس وقوف کرتے ہوئے فرمایا:

وقفت هاهنا وعرفة كلها موقف، وارفعوا عن بطن عرنة

میں یہاں ٹھہرا ہوں، اور پورا عرفات ہی ٹھہرنے کی جگہ ہے، البتہ بطنِ عرنہ [وادیِ عرنہ] سے دور رہو۔(یعنی وہ میدان عرفات سے باہر ہے)

اسی لیے بہت سے علماء کرام نے حج کے دوران مناسک سمجھ کر اس پہاڑ پر چڑھنا بدعت قرار دیا ہے۔ جن میں امام نووی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور شیخ صدیق حسن خان رحمہم اللہ شامل ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

من عمل عملاً ليس عليه أمرنا فهو رد

جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر (حکم) نہیں تو وہ مردود ہے۔

اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ طریقہ تھا کہ عرفات میں ٹھہرنے کے دوران کوئی نفل نماز پڑھیں، بلکہ آپ نے مسجدِ نمرہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے پڑھنے پر اکتفا فرمایا تھا۔ اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جگہ جسے جبلِ رحمت کہا جاتا ہے کوئی ایسا مصلیٰ (نماز پڑھنے کی جگہ) بنائی تھی    تاکہ وہاں چڑھنے والا یومِ عرفہ میں کوئی نفل یا فرض نماز ادا کرے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک  اللہ کے ذکر، تسبیح، تہلیل، تحمید، تکبیر  ،تلبیہ اور اپنے رب سے دعاء و گریہ وزاری میں مشغول رہے۔

 لہذا، اس پہاڑ پر کوئی مصلیٰ یا مسجد بنانا تاکہ وہاں چڑھنے والے نماز پڑھیں، ان بدعات میں سے ہے جو جاہل لوگوں نے ایجاد کر لی ہیں۔

اور توفیق تو اللہ ہی کی طرف سے ہے۔  وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم ۔

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
الشيخ إبراهيم بن محمد آل الشيخ ، الشيخ عبد الرزاق عفيفي ، الشيخ عبد الله بن غديان ، الشيخ عبد الله بن منيع .
فتاوى اللجنة الدائمة (11/206-208)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جبلِ عرفات پر چڑھنا شرعی کاموں میں سے نہیں ہے۔ بلکہ اگر کوئی انسان اسے عبادت سمجھ کر کرتا ہے تو یہ بدعت ہے۔ کسی انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ ا س کے عبادت ہونے کا اعتقاد رکھےاور نہ ہی اس پر اس نیت سے عمل کرے کہ یہ کوئی عبادت ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھلائی کے کاموں پر سب سے زیادہ حریص وشوقین تھےساتھ ہی  رسالت کا پیغام سب سے بہترین اور مکمل طور پر پہنچانے والے تھے، اور اللہ کے دین کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو خود اس پہاڑ پر چڑھے، نہ کسی اور کو اس پر چڑھنے کا حکم دیا، اور جہاں تک ہمیں علم ہے  نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کے چڑھنے کی توثیق (منظوری) فرمائی ۔

اس بنا پر، اس پہاڑ پر چڑھنا شریعت میں سےنہیں ہے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس پہاڑ کی مشرقی جانب کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا:

وقفت هاهنا ، وعرفة كله موقف

میں یہاں کھڑا ہوا ہوں، اور پورا عرفات ہی ٹھہرنے کی جگہ ہے۔

 گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کی طرف اشارہ فرما رہے تھے کہ ہر انسان اپنی اپنی جگہ پر وقوف کرے، اور اس جگہ پر رش نہ لگائيں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تھے۔

مجموع فتاوى ابن عثيمين (23/32) .

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے