بسم اللہ الرحمن الرحیم
شیخ حاضرین کو بتاتے ہيں کہ انہيں کئی بار پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سوڈان وغیرہ سے جمعیت اہلحدیث اور ان کے امراء کی طرف سے دعوت دی جاتی رہی ہے لیکن اپنی مشغولیت کے سبب شیخ ان کی دعوت پر نہیں جاسکتے، پھر فرماتے ہیں۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ خیر کے بہت سے راستے اور طریقے ہيں میں آپ کے سامنے اپنی مثال بیان کرتا ہوں۔ جب میں شام میں رہتا تھا تو میں نے یہ دو کام جمع کردیے تھے کہ میں لوگوں کو درس بھی دیتا ہفتے میں ایک یا دو یا کبھی اس سے زیادہ مرتبہ، اور ساتھ میں تحقیق، ریسرچ اور تالیف بھی کرتا۔ لہذا مجھے بعض ذہین وعقل مند سلفی اساتذہ نے نصیحت کی کہ آپ یہ درس وغیرہ نہ کیا کریں، تدریس چھوڑ دیں اور سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تالیف کے لیے خاص ہوجائيں۔ کیونکہ بلاشبہ آپ جتنا بھی جی لیں عنقریب دوسرے زندہ لوگوں کی طرح کل وفات پاجائیں گے۔ لیکن اپنے پیچھے ایک کتاب یا بہت سے کتب چھوڑ جائيں گے جن سے لوگ آپ کی وفات کے بعد بھی کئی صدیوں تک نفع حاصل کرتے رہیں گے۔لیکن جن لوگوں کو آپ درس دیتے ہيں پندرہ ہوں، بیس، تیس، چالیس یا پچاس ہی بہرحال فوت ہوجائيں گے، اللہ ہی جانے جتنا بھی وہ جئیں یا ان کی نسل چلے مگر ممکن ہے کہ وہ خیر زائل ہوجائے جو آپ ان میں چھوڑ گئے، تو یہ ایک نکتۂ نظر ہے۔
لیکن میرے نزدیک ان دونوں امور کو جمع کردینا افضل ہے، مگر جب یہ عمر آن پہنچے کہ بس چل چلاؤ ہوتو میں اپنے نفس میں پاتا ہوں کہ وہ مشورہ جو مجھے جوانی میں دیا گیا تھا اب اس کا وقت ہے۔ اسی لیے آپ جانتے ہوں گے کہ میں کتنی بار مراکش یا برطانیہ گیا مگر اب بھی وہ ہمیں اس پر ابھارتے رہتے ہیں کہ ہم جائيں، پھر ہم معذرت کرتے رہتے ہيں خواہ مراکش ہو یا سوڈان یا یہاں وہاں، لیکن لوگ عذر قبول ہی نہيں کرتے۔ کیونکہ یہ ایسا ہے جیسے ہم نے کہا کہ: ’’الذي ما يعرف ما هو في المغرافة ما يعرف الحكاية‘‘ (صورتحال کا صحیح اندازہ اسے ہی ہوتا ہے جو بیچارہ اس میں مبتلا ہو)۔ پس میں آج جتنا بھی جی لوں عنقریب موت آنی ہے جو کہ حتمی بات ہے۔ تو میں چاہتا ہوں کہ میں سامنے موجود جتنے منصوبے ہيں انہیں پورا کرلوں۔ لہذا میں ہر چیز پر انہیں ترجیح دیتا ہوں، ہر چیز پر خواہ سفر ہو بلکہ عمرے پر بھی، اگر آتا بھی ہوں تو بس ایک ہفتے کے لیے یا زیادہ سے زیادہ دس ایام کے لیے، وہ بھی ناچار ہوکر، کبھی میں اپنے نفس میں بہت کمی پاتا ہوں اور کچھ نہیں کرپاتا مگر یہ کہ جن چیزوں پر توجہ مرکوز تھی ان میں خلل آجاتا ہے، لہذا بس ہفتہ یا زیادہ سے زیادہ دس دن۔
اور آپ کی بارک اللہ فیک اگر اللہ تعالی سے اچھی لو لگی ہے، اور دعائیں قبول ہوتی ہیں تو مجھ پر یوں دباؤ ڈالتے رہيں یہاں تک کہ میں آپ کے ہمراہ ہولوں۔
سائل: میں ایسا کروں گا ان شاء اللہ۔
شیخ: تفضل۔
مصدر: سلسلۃ الھدی والنور 95۔


