بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسے آج رات کروٹ بدل بدل نیند نہیں آرہی تھی۔ لاکھ کوشش کے باوجود دل و دماغ میں قیل و قال کا بازار گرم تھا۔ (ویسے تو حدیث نبوی ہے کہ اللہ تعالی کو ایسے قیل و قال نہیں پسند، اس پر نہ چلنے کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ بےچینی رہتی ہے)نیند تو دورنماز تک میں بس دل میں فریقین کی ایک دوسرے پر خود ساختہ قیاس آرائیوں کو بدعویٰ ناقابل تردید ٹھوس دلائل کا لبادہ پہنانا ہی گردش کرتا رہتا۔ دونوں طرف سلفی اہل توحید و سنت ہیں مجھے کس خیمے میں جانا چاہیے؟! لیکن کیا سلفیت میں خانہ جنگی کےخیمے بنانا جائز بھی ہے؟! لیکن وہ کیسے غلط ہوسکتے ہیں وہ تو بہت بڑی علمی شخصیت یا شخصیات ہیں یا دعوت و تبلیغ میں نمایاں ٹولیاں ہیں ۔ وہ مجھے مجبور کرتے ہیں کہ میں ایک مؤقف ضرور لوں، کیا تم ہمارے ساتھ ہو یا پھر ہمارے مخالف ہو، یاد رکھنا تمہارے پاس غیرجانبدار ہونے کا کوئی اختیار نہيں!
حق و باطل کی جنگ میں حق کا ساتھ تو دینا ہوگا چاہے کچھ بھی ہو، لیکن سلف صالحین مثلاً مشاجرات صحابہ میں بھی تو ہمارے لیے اعلیٰ نمونہ ہے کہ فتنے سے دور رہ کر عافیت میں رہو! جس میں زبان تلوار سے زیادہ تباہی مچاتی ہے، یہ صرف حکومت مخالف بغاوت کے تعلق سے تو سلفی منہج نہیں بلکہ مومنوں کے آپسی اختلاف کے بارے میں بھی ہے۔
اسے یاد آیا نہیں نہیں! یہاں تو حق و باطل کی جنگ کسی توحید و شرک، سنت و بدعت، تکفیر، خروج، اہل بدعت سے تعاون و حزبیت و تفرقہ بازی وغیرہ جیسی باتوں کونہيں کہا جارہا بلکہ کبھی تو کوئی سلفی آنٹی اپنی بہو کے کھانے میں نمک زیادہ ڈالنے پر ان کا رد کرنے،ساتھ ہی سلفیت سے خارج کرنے اور اسے حق و باطل کی جنگ میں ہمارا ساتھ دینا باور کروا رہی ہوتی! اور کسی جوشیلے سلفی برادر یا سسٹر نے فلاں سلفی شیخ جودرمیان میچ میں رن آؤٹ ہوگئے ہیں ان کے ساتھ پویلین جانے پر نکاح یا طلاق کو معلق کررکھا ہے۔
اس صورت حال میں جو ہر کچھ ماہ یا سال بعد رونما ہوتی ہے کیا مجھے کسی جذباتی دباؤ کا شکار ہونا چاہیے اس سطح کے لوگوں کی خاطر اور ان کی آزمائشوں میں ڈالے جانے پر کہ ٹیکہ بازو پر لگانا ہے یا کولہے پر، یا پھر ٹیکہ منحوس خود ہی ایک اندرونی اثر کرنےوالی بیرونی سازش ہے!
اسی کشمکش میں وہ دوبارہ حصول علم و فیض کے فی زمانہ مصدر و منبع حضرت موبائل حفظہ اللہ کو جگاتا ہے۔تازہ ترین! مغرب مشرق شمال و جنوب کےمختلف مورچوں سے دور مسافت سے انٹرنیٹ کے اشارات (سگنل) پر سفر کرنے والے پی ڈی ایف گولا باور داغےگئے ہیں۔ لگتا ہے ہمیشہ کی طرح آج کا مبارک دن بھی ان ہی علمی شہ پاروں کی ورق گردانی میں صرف ہوگا۔ باقی کچھ چُھوٹے ہوئے منصوبے جیسے عبادت میں مزید محنت، کچھ ادھورے حفظ کی تکمیل، کچھ علمی فوائد کو قلم بند کرنا، کچھ فیملی اور رشتہ داروں کووقت دے کر اپنی اور ان کی تعلیم، صحت و مستقبل کے بارے میں کارگزاری، یہ سب ان شاء اللہ اس کل سے شروع کرنے ہيں جو کل کبھی آتی ہی نہیں، یا پھر اس خلائی منہجی جنگ کے تھمنے تک ملتوی رہیں گے جو بازیافت ٹوکری(ری سائیکل بِن) میں جانے کے بعد واپس سے نئے کرداروں کے ساتھ مگر اسی رنگ ڈھنگ میں واپس چھڑ جاتی ہے جیسے کہا جاتا ہے کھاؤ-پیو-کام کرو- ورزش- سوجاؤ- دہراؤ والا چکر۔
کبھی تو سوچتا ہوں ایک حدیث جس کی سند میں کچھ مقال ہے لیکن معنی درست ہے پر عمل ہو تو کیا ہی سکون ہو فرمایا:
میں جب صبح تمہارے پاس نکل کر آیا کروں تو مجھے یہ باتیں نہ پہنچایا کرو فلاں نے یہ کیا اور یہ کہا، میں چاہتا ہوں کہ اس حال میں صبح کروں کہ میرا سینہ صاف ہو کسی مسلمان کے بارے میں کدورت سے!
یا ان اختلافات کی نمائندگی کرنے والے اوپر کی سرکار ہی کچھ ترس کھا کر حکمت اپنائيں جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ لوگو ں کے سامنے تم ایسی باتیں بھی کرجاتے ہو جو ان بیچارو ں کے لیے دین میں فتنے کا سبب بن جاتی ہے، کوئی موقع محل ہوتا ہے، کوئی مخاطبین کا لحاظ ہوتاہے، کوئی دعوتی ترجیحات ہوتی ہیں۔۔۔
مگر بازیافت ٹوکری کی طرح یہ چکر دہائیوں سے چلتا ہی جارہا ہے کہ کبھی دل میں خیال آتا ہے جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ان فتنو ں کو دیکھ کر کبھی دل کرتا ہے اس آیت کے ظاہر پر عمل کیا جائے:
اے ایمان والو! تم بس اپنی فکر کرو، کوئی گمراہ ہوتا ہو تو ہو، وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتا اگر تم کم از کم خود تو ہدایت پر ہو۔
البتہ سلف صالحین جیسے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے ظاہر سے یوں لگتا ہے کہ نیکی کاحکم او ربرائی سے نہ روکو بس اپنی پرواہ کرو، حالانکہ ایسا نہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ تم ضرور نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکوورنہ عام عذاب سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
اور یہ ہی بات ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ نے فرمائی مگر آگے فرمایا کہ:ہاں جب یہ حال دیکھو کہ بخیلی پر چلا جارہا ہے یا خواہش نفس کی پیروی ہورہی ہے اور دنیا کو ترجیح دی جارہی ہے اور ہر کوئی صرف اپنی ہی رائے کو صحیح سمجھ کر اس پر مگن ہے تو پھر عوام کوچھوڑ کر اپنی پرواہ کرو، کیونکہ آگے سخت صبر کے ایام ہیں جو ہاتھ میں انگارے پکڑنے اور پچاس صحابہ جیسا اجر پانے کا سبب ہیں۔
میں نظر انداز کرنا تو چاہتا ہوں لیکن انہو ں نے ثابت کردیا ہے کہ یہ واقعی سلفی منہج کا مسئلہ ہے، اس بیچارے کو کیا پتہ کہ پس منظر میں پورے دستے کے دستے ہوتے ہیں جو ایک معمولی غیر منہجی بلکہ کاروباری تنازعے اور چپقلش تک کو سلفی منہج کا مسئلہ بنادینے کی مہارت رکھتے ہیں۔
اسی اثناء میں میرا ایک سلفی دوست جو موسم گرما میں شمالی علاقہ جات سیر و تفریح کے لیے گیا تھا آج واپس آگیا۔ سلام دعاء کے بعد میں نے اس سے پوچھا سناؤ تم دو سلفی گروہو ں کی باہمی جنگ میں کس کی طرف ہو! اس نے ان سب سے لاعلمی اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیا مطلب؟! مجھے تو کوئی تازہ ترین صورتحال کا پتہ نہیں، وہاں تو موبائل کے اشارات (سگنل) تک نہيں آتے تھے۔ اچھا! یہ بتاؤ تم فلاں شیخ کو اب بھی شیخ سمجھتے ہو؟ وہ تو ہماری سلفی اور علم لیے جانے کی قابلیت والی فہرست سے باہر ہوچکے ہیں! یہ کہتے ہوئے اس نے ترمیم شدہ علماء ،مشایخ اور داعیان کی تازہ ترین فہرست تھما دی، یہ ان کی درجہ بندی ہے، یہ اندر ہیں اور یہ والے باہر ہیں! یہ پہلے درجے کے ہیں، یہ درمیانے درجے کے، اور یہ وہ ہیں جنہیں پہلے ہم نہيں جانتے تھے مگر ہماری طرف داری والے ردود کرنے کے بعد اب ان کو بھی پہلے سے تصدیق شدہ ضمانت قبل از گرفتاری قسم کا عالم ماننا ہوگا، اور ان کے عربی عجمی نام کے صحیح تلفظ کو رٹا لگا کر یاد رکھنا ہوگا۔
دوست گھبرا کر لیکن کل تک تو جسے تم باہر کہہ رہے ہو، اس کے بارے میں ہی کچھ بھی کہنے والے کو تم سلفیت سے باہر کردیتے تھے، کیا اس وقت کا میزان مانا جائے یا اب کا، اور جو اس بیچ میں فوت ہوگیا اس کا کیا ہوگا، اور میں اگریہاں نہ پہنچتا، یا پرانی معلومات پر بھی زندگی گزار رہا ہوتا اور انٹرنیٹ سے وہ تازہ ترین نہ دیکھ پاتا جن کا میرے گلی محلے تو کجا ملک و قوم تک سے کوئی تعلق نہیں تو کیا ہوتا؟! بلکہ اکثر تو خود ان نشریات کرنے والے ملکوں کےعام لوگوں یہاں تک کہ نمایاں علمی حلقوں تک سے ان چلنے والی توپوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پہلے نے کچھ سوچ کر جواب دیا: تو پھر یہ ہی ہوتا کہ تمہارے ڈالے گئے واٹس ایپ اسٹیٹس سے تمہارے حقیقی اسٹیٹس کا ہمارے بھائی بندوں میں فیصلہ ہوتا۔
اب پہلے کو اپنا ماضی یاد آنے لگا جب وہ نیا نیا سلفی بنا تھا شرک و بدعات کی حقیقت معلوم ہوئی، سلف کی کتب پڑھتا قریبی اور دور کے لوگوں کو توحید سیکھاتا، سنت کی تحقیق اور عمل کرتا، بدعت اور اہل بدعت کی حقیقت بیان کرتا ،تکالیف سہتا، اللہ کی توفیق سے علم نافع اور عمل صالح میں دن رات گزرتے۔ صبح شام کے اذکار اور تمام سنتوں کی پابندی، گناہوں سے بچنے اور اخلاق سنوارنے کی کوششیں۔ وہ تہجد و نفلی روزے وغیرہ!
لیکن پھر انٹرنیٹ پر کھلے فارمز میں سلفی نئے پرانے، حقیقی ناموں سے یا خفیہ شناخت کے ساتھ جو چاہتے پوسٹ کرتے، اور اہل علم سےبھی تعلق بس یہ کہ فلاں کے بارے میں کیا رائے ہے، اس سے یہ صادرہوا، اس کے منہ سے یہ نکلا، من پسند جواب یہ ہوتا کہ: وہ منہج سے خارج ہے! مشن کی تکمیل ہوئی۔
کوئی پوچھے کہ جناب جس بنیاد پر فلاں کو سلفیت سے دیس نکالا دیا گیا تو اس کی تفصیل کیا ہے؟ کب کہا؟ کس سے کہا؟ کیوں کہا؟ کس طرح کہا؟ کچھ اور تو صورت حال نہيں تھی؟ کیا یہ سب کے عام نشر کے لیے ہے؟ کیا یہ کسی سلفیوں میں آپسی فتنے یا آئے دن کی علم سے منسلک چھوٹی بڑی شخصیات پر سے اعتماد اٹھ جانے کا تو سبب نہیں بنے گا؟ اور اس جیسے کئی اہم سوالات جن کا جواب دین میں کسی کے بارے میں کلام کرنےکی نزاکت اور اہمیت کو سمجھنے والے پہلے تیار رکھتے ہیں۔
بس آؤ دیکھا نہ تاؤ نشر کیے جاؤ، جو نہ مانے وہ بھی منہج سے خارج، اور اگر کسی کو متشدد حدادی کہلائے جانے کا خطرہ ہو تو کھلے عام خارج نہ کرتے ہوئے بھی منہج سے خارج لوگوں جیسا اندرون خانہ سلوک شروع کردو اس کے ساتھ۔
سوچنے کی بات ہے یہ شیخوں کی فہرست جاری کرتے ہیں اپ ڈیٹ کرتےہیں، یہ باہر یہ اندر اوریہ بیچ میں معلق(منزلۃ بین المنزلتین)، ایک نے تو مجھے یہ تک کہا بعض مشایخ فی الحال پائپ لائن میں ہیں! پھر تو شیخ سےبڑے یہ خود ہوئے، جو فیصلہ تک کرسکتے ہیں ان میں سے کون صحیح ہے، تو ان دونوں سےزیادہ انہیں علم ہوا، ساتھ ہی ایسے لوگ خود ہمیشہ سلفی ہی رہتے ہيں ہاں اوپر والے مشایخ اندر یا باہر ہوتے رہتے ہیں، پھر تو علم، تقویٰ، استقامت، فتنوں سے بچ نکلنا ان سب میں وہ ان سے بالاتر ہوئے، پھر انہیں مشایخ کی ضرورت ہی کیوں ہيں، یہ تو خود اتنے مہان ہیں، شاید صرف (ای ) مارکیٹ میں جو علمی شخصیت مشہور ہوجائے اس سے نسبت جوڑ کر اپنا بھاؤ بڑھانے کے یہ پینترے ہيں۔ اور خبردار! جب کوئی آواز نکالے تو اس کی معمولی سی بات کو سیدھا سلفی منہج کے بنیادی مسائل بنانے والے کارخانے میں بھیج کر اسے خوب اچھی طرح پالش کرکے منہجی مسئلہ بنادو، پھر جو نہ مانے تو انجام پتہ ہے ناں بابو!
ایک ہی پل میں کوئی عالم تھا، اس کے پاس علم بھی ہوا کرتا تھا، کتاب سامنے رکھی ہے مکتبہ میں، درس موجود ہے یوٹیوب پر لیکن وہ علم اچانک سب رفو چکر ہوگیا، سلفیت سے نکالنا تو دور کی بات اس کے ساتھ عام بزرگ یا صاحب علم کی طرح شیخ کا لفظ بھی اب نہیں لگا سکتے، ورنہ دوسرے خیمے والوں کی پیشانی پر شکنیں پڑنا شروع ہوجائيں گی، بلکہ شیخ کے بجائے کہو: اوئے فلاں تو کہتا ہے۔۔۔ اس بدتمیزی کرنے پر بھی اجر ہوگا آپ کو۔
یہ باتیں عرب یا مغربی ممالک میں ناز ونعم میں پلے تنگئ معاش سے بے پرواہ لوگ کس طرح سمجھ سکتے ہیں جو مزے سے اے سی میں بیٹھے انٹرنیٹ پر جو چاہے لکھ مارتے ہیں، بلکہ ا س کے لیے بھی الگ سے بندے موجود ہیں، حضور بس عرض کرتے ہیں اور وہ نشر کرتے ہيں۔ ہمارے مشرقی پسماندہ ممالک میں تو صحیح عقیدہ منہج معلوم ہونے کے باوجود بیچارہ اپنی گزران کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے، ا ن کی سلفی ان آؤٹ خلائی جنگوں کے لیے تب فارغ ہو اور مؤقف اپنائے جب دال روٹی سےباہر نکلے۔ پاک و ہند میں نئی نسل کے سلفیت اپنانے والے نوجوانوں کو ان بے رحمانہ معیارات پر رگڑا دے دے کر بیڑہ غرق کردیا ہے، اب تو نفسیاتی مریض بن جانے کا نام سلفیت رکھ چھوڑا ہے۔
پھر اسی پہلے دوست کوفون پر میسج آتا ہے، بھائی ضروری ملاقات کرنی ہے، ہنگامی صورت حال ہے! کیا ہوا؟ بس اب پانی سر سے اوپر جاچکا ہے قبرپرستوں، روافض، خوارج، صوفیوں، اخوانیوں، حزبیوں سے پہلے فلاں سلفی کہلانے والے شیخ کا قیمہ کرنا ہی ہوگا۔ وہ جھنجھلا گیا ایک بار پھر۔۔۔! پہلے تو کچھ سال بعد یہ ہنگامہ ہوتا تھا، اب تو تین ماہ بعد ہی ٹپک پڑے آزمائش میں ڈالنے کے لیے، سانس تو لینے دو، کسی کو سنبھلنے تو دو، وہ بیچارہ اپنی اور اہل عیال کی دنیا و آخرت کا تو کچھ سامان کرلے۔
فون کی دوسری طرف والا کہتا ہے: اچھا تو یہ بات ہے، ٹھیک ہے اب ہم تم سے پرہیز کریں گے اور دوسروں سے بھی کروائيں گے، ذرا بچ کر رہنا اس سے، خفیہ ہجر (بائیکاٹ) شروع، مسلمانوں مومنوں کے باہمی حقوق بھائی چارہ، درگزر، محبت، ایثار وقربانی ، حسن ظن ، بے یار و مددگار نہ چھوڑنا وغیرہ وہ تو صرف ریاض الصالحین میں شائع کرنے کے لیے ہيں۔
(مگر اب مزید نہیں)
اس دفعہ اللہ سے مدد مانگتے ہوئے اس نے پختہ ارادہ کرلیا اور ٹھان لی، اب اس بازیافت ٹوکری میں واپس نہيں جھانکنا۔ اب اس کا سینہ کشادہ ہوتا جارہا ہے، زندگی میں سکون محسوس ہونے لگا ہے، کچھ تعمیری سرگرمیاں بھی مستقل مزاجی سے ہونے لگی ہيں، دل میں سوچ رہا ہے کہ کاش یہ تلخ سبق میں پہلے سیکھ لیتا کہ سلفیت جو کہ دین حق ہے وہ اللہ تعالی کی رضا کے لیے اپنایا جاتا ہے، ناکہ کسی شخصیت یا گروہ کے سامنے اپنے آپ کو سلفیت کا تمغہ یا مہر لگوانے کے لیے، بس آئے دن بدلتی وفاداریوں کے سامنے اپنے آپ کو ان کے سامنے مہر شدہ سلفی ثابت کرنے کی چاپلوسی۔ اگر واقعی سلفی ہو تو سلف صالحین کے اقوال دیکھو:
حق کو پہچانو اس کے اہل خود ہی معلوم ہوجائيں گے۔ اے کمیل! یہ دل برتنوں کی مانند ہیں، پس ان میں سب سے بہترین وہ ہے جو خیر کو زیادہ جذب کرنے والا ہو۔ اور لوگ تین طرح کے ہیں: ایک عالمِ ربانی، دوسرا نجات کے راستے پر چلنے والا طالب علم، اور تیسرے احمق اور جاہل لوگ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے چل پڑتے ہیں، جو نہ تو علم کے نور سے منور ہوئے اور نہ ہی کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی۔ افسوس ہے ایسے حق کے علم بردار پر جس کے پاس بصیرت نہ ہو، کسی بھی شبہے کے پہلے ہی وار سے اس کے دل میں شک پیدا ہو جاتا ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ حق کہاں ہے!اگر وہ کوئی بات کہے تو خطا کر جائے، اور اگر خطا کر بیٹھے تو اسے پتا بھی نہ چلے۔ وہ ایسی چیز کا دیوانہ ہوتا ہے جس کی حقیقت کا اسے علم ہی نہیں ہوتا، چنانچہ وہ خود بھی فتنہ ہے اور ان کے لیے بھی جو اس کے ذریعے فتنے میں پڑیں۔ (علی رضی اللہ عنہ)
یا تو عالم بنو یا طالب علم "امعہ” نہ بنو جو بے پیندے کے لوٹے کی طرح بس اندھا دھند جہاں ہوا چلے اس کے ساتھ چلتا ہے۔ یعنی بس جو میرے لوگ مؤقف اپنائيں گے صحیح یا غلط میں اس کی پیروی کروں گا۔ دین میں کسی کی اندھی تقلید نہ کرو کہ لوگ ایمان پر ہوں تو میں بھی ایمان پر، وہ کفر پر ہوں تو میں بھی ان کے ساتھ کفر میں، پیروی کرنی ہی ہے تو فوت شدگان کی کرو کیونکہ زندہ شخص کبھی بھی فتنے سے محفوظ تو نہیں (خواہ کتنا بڑا عالم ہی کیوں نہ ہو)۔ فرماتے ہیں کہ ہم جاہلیت کے دور میں امّعہ اس شخص کو کہتے تھے جسے کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ اپنے ساتھ کسی دوسرے (بن بلائے) کو بھی اٹھا لائے۔ لیکن آج تم میں امّعہ وہ شخص ہے جو اپنے دین کا بارِ گراں دوسری شخصیات پر لاد کر بے فکر ہے۔ وہ اپنا دین دوسرے کو سونپ دیتا ہے، جس سے وہ دوسرا شخص تو اپنی دنیا کا فائدہ اٹھا لیتا ہے جبکہ اس کا گناہ اسی پیروکار پر باقی رہتا ہے۔ اور "المُحقِبُ دِينَه الرِّجَال” کا مطلب ہے: اپنے دین کو بغیر کسی دلیل پر نظر کیے اور بغیر کسی حجت کی طلب کے، لوگوں کی آراء کے پیچھے لگا دینے والا۔ یہ لفظ ‘حقيبہ’ (تھیلے یا بیگ) سے ماخوذ ہے جسے گھوڑے کے پیچھے لٹکایا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح یہ شخص بھی اپنے دین کا معاملہ دوسرے کے گلے کا ہار بنا دیتا ہے؛ محض اندھی تقلید کے طور پر، نہ کہ تحقیق و اجتہاد کے طور پر۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ)
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : صحابہ اور سلف ایسے ہی شخص کو امعہ اور مقلد کہتے تھے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسی شخص کے علم کی کم مائیگی کی دلیل یہ ہے کہ وہ اپنے عقیدے و منہج کے معاملے میں کسی انسان کی اندھی تقلید کرے۔ اور قسم کھا کر فرماتے: لوگوں کے دلوں میں کچھ اقوام کی ایسی عظمت بیٹھ گئی ہے کہ جب ان کی طرف سے کوئی (غلط) بات بھی منقول ہوتی ہے اور شریعت سے جاہل شخص اسے سنتا ہے، تو وہ ان کی ذاتی عظمت کی وجہ سے اسے من و عن قبول کر لیتا ہے۔
آخر میں خلوص دل سے دعاء ہے کہ اے اللہ ہمیں حق حق بنا کر دکھا اور اس کی پیروی کی توفیق عطاء فرما، اور باطل باطل بناکر دکھا اوراس سے اجتناب کی توفیق عطاء فرما۔ اور ہمیں تمام ظاہری باطنی فتنوں سے محفوظ رکھ۔ حق اور اہل حق کا بول بالا اور ان میں اتحاد و اتفاق کی نعمت ہمیشہ قائم و دائم رہے۔

