TariqBrohi

عربی لغت کو اپنے باطل عقائد کے لیے استعمال کرنا – شیخ محمد بن صالح العثیمین

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اگر آپ کہتے ہیں "لن نتكلمَ”

لن: حرف نفی اور نصب اوراستقبال ہے۔

نتكلمَ :فعل مضارع منصوب ہے ” لن ” کے سبب، اور اس کے نصب کی علامت فتحہ (زبر) ظاہر ہے، اور اس کا فاعل واجبی طور پر مستتر (چھپا) ہوا  ہے، جس کی تقدیر ہے "نحن "۔

کیا ” لن ” دائمی نفی کے لیے  آتا ہے یعنی ہمیشہ کی نفی یا پھر یہ ایسی نفی ہے کہ بعد میں کبھی ثابت بھی ہوسکتی ہے؟

جواب: جب یہ نفی کرے تو وہ دائمی نفی کے لیے نہیں ہوتا۔

اسی لیے (اللہ کی صفات) کی تعطیل کرنے والوں کاآخرت میں دیدار الہی کو ناممکن قرار دینے کا اس آیت سے استدلال باطل ثابت ہوتا   کہ فرمایا:

لَنْ تَرٰىنِيْ

تم مجھے  ہرگز نہيں دیکھ سکتے۔[1]

کیونکہ ” لن ” دائمی نفی کے لیے نہیں آتا۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ بے شک اللہ تعالی نے جہنم والوں کے بارے میں فرمایا:

وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ

اور وہ اپنے کرتوتوں کے سبب کبھی بھی اس (موت) کی تمنا نہیں کریں گے۔[2]

پھر ان ہی کے بارے میں فرمایا کہ جب وہ آگ میں ہو ں گے تو کہيں گے:

يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ

اے مالک! (جہنم کا داروغہ فرشتہ) تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے۔[3]

اور لِيَقْضِ  کا مطلب ہے ہمیں موت ہی دے دے۔ چنانچہ وہ اس کی تمنا اور دعاء کریں گے۔ حالانکہ اللہ تعالی نے تو فرمایا کہ "وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ”  ۔

لہذا ثابت ہوا کہ یہ دونوں آیات  ا س بات پر دلالت کرتی ہيں کہ بلاشبہ  ” لن ” ہمیشگی اور ابدیت   کا تقاضہ نہیں کرتا۔ اسی بارے میں ابن مالک کا قول بھی ہے کہ:

ومن رأى النفي بلن مؤبدا فقوله اردد وسواه فاعضدا[4]

اسی طرح آپ رحمہ اللہ سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً

اور جب تم نے کہا تھاکہ اے موسی! ہم ہر گز تمہارا یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلانہ دیکھ لیں۔[5]

” لن ” نفی کا فائدہ دیتا ہے لیکن کیا یہ دائمی  نفی کا تقاضہ کرتا ہے؟

یہ دائمی نفی کا فائدہ نہیں دیتا الا یہ کہ اس کی قید لگا دی جائے۔ لیکن اس کی تین حالتیں ہیں:

1- کبھی ایسے الفاظ سے مقید ہوتا ہے جو غایت پر دلالت کرتے ہیں (یعنی جب تک یہ نہيں ہوجاتا تب تک۔۔۔) جیسے مندرجہ بالاآیت میں ہے یا پھر اس آیت میں:

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ حَتّٰى يَرْجِعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى

انہو ں نے کہا کہ ہم تو اسی (بچھڑے) پر مجاور بنے بیٹھے رہیں گے جب تک  موسی ہمارے پاس واپس نہیں آجاتے۔[6]

یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی ایسی قید لگائی ہو جو غایت پر دلالت کرتی ہو تو وہ  ابدی ہونے پر نہ دلالت کرتی ہے نہ اس کا احتمال رکھتی ہے۔

2- اور کبھی ایسی قید لگا دی جاتی ہے جو( بظاہر ) ابدی ہونے پر دلالت کرتی ہے  جیسے فرمایا:

وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ

اور وہ اپنے کرتوتوں کے سبب کبھی بھی اس (موت) کی تمنا نہیں کریں گے۔[7]

3- اور کبھی بس مطلق طور پر آئے جیسے لن يقوم فلان (فلاں نہيں کھڑا ہوگا)۔

چنانچہ ان کے بارے میں اگرکوئی قرینہ موجود ہو  کہ یہ ابدی و دائمی ہونے کا تقاضہ کرتا ہے تو وہ دوام کے لیے ہوگا،  اور اگر کوئی قرینہ نہ ہو جو دائمی ہونے پر دلالت کرے تو پھر اس میں احتمال ہوگا، جیسے فرمایا:

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا

پھر اگر تم ایسا نہ کرسکو اور تم کبھی کر بھی نہيں سکو گے۔[8](یعنی قرآن جیسا کلام نہيں لاسکو گے)

اب یہ کس جانب اشارہ کررہا ہے؟ ابدیت کی طرف اگرچہ اس میں "ابدا” کا لفظ نہیں ہے، لیکن قرینہ اس بات کا تقاضہ کررہا ہے۔ تو یہ ہے ” لن ” کا حکم۔ اسی لیے ابن مالک الکافیہ میں فرماتے ہیں:

ومن رأى النفي بلن مؤبدا فقوله اردد وسواه فاعضدا.

فقوله اردد یعنی  اس کا قول رد کیا جائے گا کیونکہ بے شک معتزلہ بلکہ اشاعرہ بھی  کہتے ہيں کہ ” لن ” ابدیت کے لیے ہےاسی لیے وہ اللہ تعالی کے فرمان جو موسی علیہ الصلاۃ والسلام  سے فرمایا "لَنْ تَرٰىنِيْ”سےاستدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کو کبھی بھی دیکھا نہيں جاسکتا، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں،لیکن بلاشبہ ان کا یہ قول مردود ہے۔[9]

عربی گرامر و قواعد سیکھنے کےلیے ہمارا عربی کورس جوائن کیجیے:

https://tariqbrohi.com/arabic-language-course/


[1] الاعراف: 143۔

[2] البقرۃ: 95۔

[3] الزخر‌ف: 77۔

[4] شرح الآجرومیۃ ص 171-172۔

[5] البقرۃ: 55۔

[6] طہ: 91۔

[7] البقرۃ: 95۔

[8] البقرۃ: 24۔

[9] تفسیر سورۃ البقرۃ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے