بسم اللہ الرحمن الرحیم
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی کو وصیت فرمائی کہ کبھی کسی کو گالی نہ دینا۔ تو وہ فرماتے ہيں پھر میں نے زندگی بھر نہ کسی آزاد کوگالی دی نہ غلام کو، نہ کسی اونٹ کو نہ بکری کو۔(ابو داود 4084)
جیسا کہ ہمارے سلفی اہل علم بیان کرتے ہیں کہ اہل بدعت کا بائیکاٹ کیا جائے (جو بالکل حق ہے اور کتاب و سنت اور سلف کے منہج سے واضح ہے) تو بعض لوگ اس کی مصلحتوں کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے اسے بے جا سختی اور تفرقہ بازی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہی اخوانی صفت لوگ ہيں جو کافروں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کو بڑا جہاد اور ایمان کی نشانی سمجھتے ہيں جبکہ وہ سنت و سلف سے ثابت بھی نہيں، صحیح عقیدے و منہج کی اصلاح کے بغیر محض اپنے سیاسی مقاصد اور عوامی مقبولیت کے لیے وہ ایسا کرتے ہیں۔ تفصیل کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل پر ویڈیو دستیاب ہے۔
سردست عرض یہ ہے کہ بائیکاٹ جسے ہجر کہتے ہیں اس کااولین ظاہری فائدہ تو انسان کی اپنی ذات کو ہوتا ہے کہ وہ کسی کے شر سے محفوظ ہوجاتا ہے، لیکن ساتھ ہی دوسرے فوائد کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے اور تقابلہ کرکے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ بائیکاٹ کرنے میں اپنا یا دوسروں کا زیادہ فائدہ ہے یا نقصان۔ اس بارے میں اللہ کی توفیق سے کئی برس پہلے میں نے شیخ ربیع بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ کی کتاب "اہل بدعت کے بائیکاٹ کے بارے میں صحیح سلفی مؤقف” ترجمہ کی تھی۔ تفصیل کے لیے اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔ ان فوائد کے بعض پہلو مندرجہ ذیل ہیں:
1- پہلا فائدہ تو اس شخص کو ہوتا ہے جو کسی شرپسند کے فتنے سے بچ جاتا ہے جیسا کہ کتاب و سنت میں میں بہت سے دلائل ہيں کہ بری صحبت سے بچو۔
2- دوسرا خود جس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے اسے بھی فائدہ ممکن ہے کہ وہ دل میں سوچے اور اپنے رویے پر نادم ہوکر توبہ کرلے۔ جیسا کہ تین مخلص صحابہ جو جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے ان کا کئی دن تک بائیکاٹ ہوا اور ان کے شرمندہ ہونے پر اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول فرمائی جس کا ذکر سورۃ التوبۃ میں ہے۔
3- تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اگر یہ فوائد نہ بھی حاصل ہوں تو معاشرے اور عوام کو فائدہ ہوتا ہے اس طور پر کہ اگر آپ کسی بدعتی کی تعظیم کرتے اس کو اچھا بناکر پیش کرتے ہيں تو لوگوں کو مغالطہ ہوتا ہے کہ یہ بھی صحیح ہوگا جب ہی تو اتنے علم و سنت والے ان کے ساتھ ہیں، لہذا یہ بھی شرعی بائیکاٹ میں مطلوب ہوتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے مقروض لوگوں کو جنازہ نہيں پڑھتے تھے جو قرض کی ادائیگی کے لیے پیچھے کچھ نہ چھوڑ کر گئے ہوں، تاکہ معاشرے کے لیے عبرت بنے اور وہ جلد از جلد اپنا قرض اتارنے کی فکر کیا کریں۔ یا جیسا کہ ایسی جگہ اور دن جو غیراللہ کے نا م کی قربانی کے لیے مشہور ہو وہاں اللہ کے نام کی بھی نہ کی جائے، ان کی مشابہت سے بچنے اور عوام کو مغالطے سے بچانے کے لیے۔
الحمدللہ، واقعی کتاب و سنت کے احکام حکمت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ لہذا اس میں سے بائیکاٹ کیے جانے والے شخص کو جو فائدہ ملتا ہے اس بارے میں مجھے اچھی طرح اپنے بچپن کا ایک زندگی بدل دینے والا واقعہ یاد ہے، میں جب میں ایک نئے محلے میں منتقل ہوا تو وہاں کے برے ماحول کے سبب نہ جانے کب گالم گلوچ کا عادی بن گیا۔ لیکن کچھ برس بعد اچانک ہی بعض سلجھے ہوئے دوستوں نے بات چیت بلکہ ملنا جلنا تک بند کردیا، میں حیران تھا انہیں کیا ہوگیا ! پڑوس میں رہتے روز نظر آتے مگر کترا کر گزر جاتے اورکوئی بات نہيں کرتے۔ پھر کہیں سےخبر ملی کہ تم بہت گالم گلوچ کرتے ہو، اس وجہ سے ان سب نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ اس کے ساتھ نہ بات کریں گے نہ کھیلیں گے۔ اس بات کا مجھ پر نہایت ہی گہرا اثر ہوا اور میں تنہائی میں سوچنے پر مجبور ہوا، الحمدللہ پھر وہ دن ہے اور آج کا دن اس سے مکمل پرہیز کی توفیق اللہ تعالی نے عطاء فرمائی۔
یہ زندہ مثال میرے سامنے رہتی ہے کہ اچھی بری صحبت کی کتنی اہمیت ہے، اور اس کے کتنے دوررس اثرات فرد اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ بلکہ انسانی پیدائش تک کے بارے میں فرمان نبوی ہے کہ ہر بچہ صحیح فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، مجوسی یا نصرانی بنادیتے ہیں۔
اللہ تعالی ہمیں صحت مند و پاکیزہ ماحول عطاء فرمائے اور شر و فتنوں سے بھرپور ماحول سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
اسلامی آداب و اخلاق اور دیگر دینی علوم حاصل کرنے کے لیے ہماری آن لائن کورسس یا ریکارڈ شدہ لیکچرز سے فائدہ اٹھائيں۔


