بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوال: ہم ایک دیار کفر میں رہتے ہیں جس میں خباثت کی کثرت پائی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ہم سنتے ہیں بعض ایسے لوگوں کو جو ہمارے ملک کے علماء کرام پر کھلم کھلا طعن وتشنیع کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کبار علماء کمیٹی تو کبار حکومتی ایجنٹس کی کمیٹی ہے۔ اور اس ملک کے علماء پر تہمت لگاتے ہیں کہ یہ تو اہلِ مناصب ومداہنت ہیں بلکہ معاملہ یہاں تک جا پہنچا کہ ان کی تکفیر تک کربیٹھتے ہیں۔ اور یہ کہ علماء طاغوتوں کے دوست ہیں۔ اس قسم کی فکر کا کیسے سامنا کیا جائے؟ اور کیسے ان کا رد کیا جائے؟
جواب: یہ باتیں اس ملک کے علماء کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتی ، بلکہ یہ باتیں خود کہنے والے کے لیے مضر ہیں۔ کیونکہ اس کا گناہ اور اس کا بار انہیں کے سر لوٹتا ہے۔ جس گناہ اور شر میں یہ مبتلا ہورہے ہیں اس میں جلنے کڑھنے کی ضرورت نہيں اور نہ ہی اس پر غم کریں۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس سے بھی بڑھ کر باتیں کی تھیں کبھی جادوگر کہا، کبھی دیوانہ، کبھی کہا کہ کسی نے آپ کو پٹی پڑھائی ہے، کبھی کہا جھوٹا ہے اور سب سے برا ہے۔ یہ باتیں کوئی نئی اور حیرت کی بات نہیں۔ لہذا یہ باتیں اس ملک کے علماء کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ یہ باتیں اس کے کہنے والے پر گناہ اور ضرر بن کر لوٹتی ہیں۔ خبرداران کی یہ باتیں آپ کو کبھی بھی دل برداشتہ نہ کریں[1]۔
[الإجابات المهمة فى المشاكل المدلهمة س 26]
[1] شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ وہ علماء کرام کی مدد فرمائے ان باتوں کے خلاف جو بیوقوف لوگ ان کے خلاف پروپیگنڈہ اور ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ کیونکہ علماء کرام کو بہت سے چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
اولاً: ہم بعض مایہ ناز اہل علم کی جانب منسوب کوئی کلام سنتے ہيں لیکن جب تحقیق کرتے ہیں تو امر واقع اس کے برخلاف ثابت ہوتا ہے۔ ایسا بہت دفعہ ہوتا ہے کہ کہا جاتا ہے: فلاں عالم نے ایسا ایسا کہا ہے لیکن جب ہم تحقیق کرکے دیکھتے ہیں تو امر حقیقی (حقیقت) اس پھیلائی گئی بات کے خلاف ہوتی ہے۔ اور یہ بہت بڑا جرم ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ:
’’إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ‘‘
(صحیح بخاری 1291، صحیح مسلم 4)
(مجھ پر جھوٹ بولنا کسی عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں) یا جو اس معنی کی حدیث ہے۔
پس علماء کرام پر جھوٹ باندھنا جو شریعت الہی سے متعلق بیان کرتے ہیں وہ بھی عام انسانوں کی جانب جھوٹ منسوب کرنے کی طرح نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اس شرعی حکم کو شامل ہے جو اس قابل اعتماد عالم کی جانب منسوب ہے۔چنانچہ جتنا کوئی عالم لوگوں کے ہاں قابل اعتماد وثقہ ہوگا اتنا ہی اس پر جھوٹ افتراء کرنا زیادہ شمار ہوگا اورخطرناک بھی۔ کیونکہ عام عوام میں اگر کسی سے کہیں کہ فلاں نے ایسا کہا ہے تو وہ قبول نہیں کرے گا لیکن اگر آپ کہیں کہ فلاں عالم جو آپ کے نزدیک بہت معتبر ہے اس نے ایسا کہا ہے تو وہ مان لے گا۔
یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ جب کسی رائے یا فکر کو اپنے زعم میں حق سمجھ کر اپنا لیتے ہیں تو پھر وہ اسے لوگوں سے منوانے کی کوشش کرتے ہيں اور انہیں کوئی طریقہ نہیں سوجھتا سوائے اس کے کہ کسی ایک قابل اعتماد عالم کی جانب جھوٹ منسوب کردیا جائے کہ دیکھو فلاں عالم کا بھی یہی قول ہے۔ اور یہ بہت ہی خطرناک مسئلہ ہے۔ یہ محض اس عالم کی شخصیت پر جرح نہیں ہے بلکہ یہ تو احکام الہی میں سے کسی حکم کے متعلق ہے۔
ثانیاً: غلطیوں کوبڑھا چڑھا کر بیان کرنا ۔ یہ بھی ایک غلطی ہے۔ نہ صرف غلطی بلکہ حد سے تجاوز کرنا ہے کیونکہ عالم بھی ایک انسان ہے جس سے صحیح اور غلط دونوں کا امکان ہے۔ لیکن اگر کوئی عالم غلطی کرجائے تو ہم پر واجب ہے کہ اس سے رابطہ کریں اور اس سے پوچھیں کیا آپ نے ایسا ایسا کہا ہے؟ اگروہ کہے کہ ہاں۔ اور ہم اسے غلطی سمجھتے ہوں تو ہم پوچھیں گے کہ کیا آپ کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے؟ پس جب ہم اس کے ساتھ مناقشہ شروع کریں گے تو حق بات واضح ہوجائے گی۔ اور ہر وہ عالم جو درحقیقت اللہ تعالی سے ڈرنے والا ہوگا لازم ہے کہ وہ حق بات کی جانب رجوع کرے گا۔ اور لازم ہے کہ وہ اپنے رجوع کا اعلان بھی کرے گا۔ لیکن غلطی کو بڑھا چڑھا کر اور کلام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا بلاشبہ یہ اپنے مسلمان بھائی پر ظلم وزیادتی ہے۔ بلکہ اگر میں ہمت کروں تو یہ تک بول دوں کہ یہ تو شارع(شریعت ساز) پر بھی زیادتی ہے۔ کیونکہ جب لوگوں کا بھروسہ قابل اعتماد عالم پر سے متزلزل ہوگا تو پھر وہ کدھر جائیں گے؟ کیا لوگ بیچ راہ میں متذبذب رہیں گے کہ ان کا کوئی قائد ہی نہ ہو جو شریعت الہی کے بارے میں ان کی رہنمائی کرتا ہو؟ یا پھر وہ کسی جاہل کی جانب متوجہ ہوں گے جو بلاقصد ہی انہی اللہ کی راہ سے گمراہ کردے گا؟ یا پھر علماء سوء کی جانب متوجہ ہوں گے جو انہيں جانتے بوجھتے اللہ کی راہ سے روکیں گے؟ (دیکھیں کتاب الصحوۃ الاسلامیۃ ص 230-231) (الحارثی)

