TariqBrohi

امی مجھے صرف سلفی سے شادی کرنی ہے!

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بہت سے نوجوان دعوت حق سلفیت قبول کرکے جوش و جذبے میں ہمیشہ یہ چاہتے ہیں ہمیں اچھے دینی سلفی عقیدے منہج والے لڑکے یا لڑکی سے شادی کرنی ہے، جس کی وجہ سے کم علمی اور دعوت میں حلم بردباری  وحکمت کی کمی کی وجہ سے بھی وہ خاندان بھر میں غیرمقبول ہونے لگتے اور والدین کے ناک میں دم کر رکھا ہوتا ہے۔ حالانکہ بہت سی چیزوں کے تعلق سے وہ دنیا کی تلخ حقیقتوں کو نظر انداز کررہے ہوتے ہیں۔ لہذا اکثر یہ نتیجہ بھی دیکھا گیا کہ صرف دین یا سلفی کہلانے کو دیکھ کر غلط جگہ شادی  کرلینے پر الٹا دین منہج کی بدنامی یا اپنے اوپر کڑی آزمائش ڈال کر متنفر ہونے یا کردینے کا سبب بن گئے۔

فرمان باری تعالی ہے:

تم میں سے جو بے شادی ہیں ان کی شادی کروا دو

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اے نوجوانو! جو شہوانی خواہشات رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ شادی کرلے جو اس کی نظر اور شرمگاہ کی حفاظت کرے گی۔

شادی کے مقاصد میں سے گناہ سے بچ کر پاکدامنی حاصل کرنا ہے۔

ساتھ ہی اس میں بے شک دین داری کو بھی دخل ہے فرمایا کہ :

کسی مشرک مرد یا عورت سے نکاح نہ کرو اگرچہ وہ تمہیں کتنے ہی  اچھے لگتے ہوں، حالانکہ دوسری طرف  ان سے دنیاوی اعتبار سے بعض چیزوں میں کم مومن مرد و عورت بہتر ہیں۔

اور فرمایا کہ جب کوئی مرد رشتہ بھیجے جس کے دین و اخلاق سے تم راضی ہو تو اس سے نکاح کروا دو ورنہ زمین میں بہت فساد مچے گا۔

اور عورت کے بارے میں فرمایا کہ اس کے حسن وجمال، مال و دولت، حسب ونسب اور دین کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے تم دین دار کو ترجیح دینا۔

البتہ بعض  لوگ اس کا صحیح فہم نہیں رکھتے اور سمجھتے ہیں ہم نے تو صرف دین داری کو دیکھا، حالانکہ وہ اپنے دین میں ہی کسی فتنے کا سبب نہ بن جائے اور حقوق ادا نہ کرپائيں اس وجہ سے کفو اور جوڑ دیکھنا یا مالی، معاشرتی اورجسمانی حالت  کو دیکھنا بھی پائیدار اور خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ شادی خوشی اور سکون کے لیے کی جاتی ہے جو اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔

جیسا کہ قرآن میں بھی ہے   فَانْكِحُوْا  مَا  طَابَ  لَكُمْ  مِّنَ  النِّسَآءِ  جو عورتیں پسند ہوں  ان سے نکاح کرو، اور پسندیدگی کا معیار الگ الگ ہوتا ہے، جیسا کہ ایک صحابی کو کہا کہ جس سے شادی کرنی ہو پہلے اس کی وہ چیز دیکھ لو جو تمہاری چاہت ہے۔

اسی طرح ایک نیک دین دار بااخلاق صحابی کی بیوی کو ان کی شکل و صورت پسند نہ تھی جس کی وجہ سے وہ فتنے میں  پڑ سکتی تھیں تو بآسانی خلع کروادی گئی انہيں زندگی بھر صبر کرتے رہنے کا نہ کہا،بلکہ ایک نے تو ازدواجی تعلق  غیرتسلی بخش ہونے کا  کھلے الفاظ میں شکوہ کیا تو اس کی بھی شکایت کا ازالہ فرمایا۔

کیونکہ ہر انسان کے لیے کچھ چیزیں ناقابل برداشت ہوتی ہيں،  جیسے ایک صحابیہ کو دو صحابہ کے رشتے مسترد کردینے کامشورہ دیا کہ ایک کی مالی حالت بہت کمزور تھی اور دوسرا عورتوں پر بہت سختی کیا کرتا تھا۔

یا جیسا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے رشتے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ چھوٹی ہيں، لیکن جب علی رضی اللہ عنہ کا رشتہ آیا تو ہاں فرمادی۔ لہذا عمر کا آپ نے لحاظ رکھا خوشگوار زندگی کا ساتھ چلتے رہنے کی خاطر، حالانکہ عظیم مصلحت کی خاطر آپ نے اپنے سے بڑی عمر کی خدیجہ رضی اللہ عنہا اور بہت چھوٹی عمر والی عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی شادی کی تھی۔

چنانچہ دین داری کو ترجیح دینے کا صحیح مفہوم امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بیان فرماتے ہيں  کہ:

پہلے دین کا نہ پوچھو بلکہ حسن دیکھو پسند آجائے، تو پھر دین کا دیکھو، اب اگر دین اچھا نہ ہوگا تو تم نے پسند ہونے کے باوجود دین کی خاطر اسے چھوڑ دیا اور دین کو ترجیح دی۔ اس کے برعکس بعض سلفی بہن بھائی اکثر دین داری کو پہلے دیکھنے کی غلطی کرتے ہیں اور دین پسند آجاتا ہے، مگر پھر حسن  یا معاشی حالت کو دیکھتے ہيں جو ناپسند ہوتی ہے اور اسے مسترد کردیتے ہيں، تو اس صورت میں اس نے دین کو ترجیح نہ دی۔

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ سب کو وہ رشتے عطاء فرمائے جو دین و دنیا میں ان کے لیے بہترین اور ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے۔

دینی، معاشرتی، ذاتی و ازدواجی مسائل میں مشاورت اورکنسلٹ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک میں فارم کو پر کرکے رابطہ کیجیے۔

وجزاکم اللہ خیرا

Consulting Client Intake Form:

https://forms.gle/789gDhYRYiWKYDbZ8

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے