TariqBrohi

قاری صاحب! مولوی صاحب!

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہمارے ہاں کوئی نوجوان صحیح دین کی پابندی کی طرف آتا ہے تو اسے معاشرے میں بہت سی مشکلات کا سامنا پڑتا ہےمثلاً پائنچے ٹخنوں سے اوپر رکھنا اور مخلوط مجالس سےپرہیز پر سب اسے طنز ومزاح کا نشانہ بنارہے ہوتے ہیں۔ یہ تو ان لوگوں کے رویے کی ایک معمولی سی جھلک ہے جو خود اتنے دین دار نہیں ہوتے۔

لیکن ہمارے ہاں تو قرآن مجید پڑھانے والے قاری صاحب اور مسجد کےامام مولوی صاحب کو بھی بہت حقیر سمجھا جاتا ہے، کچھ بیچاروں کے اپنے کرتوت یا مجبوریاں ایسی ہوتی ہيں، اور کچھ لوگوں کا دین کو کم اہمیت دینا بھی ہوتا ہے۔

بلکہ جو خود دینی اداروں مساجد و مدارس و تنظیموں وغیرہ سے منسلک لوگ ہوتے ہيں ان کے ہاں بھی مسجد کےامام صاحب قاری صاحب ایک حقیر حیثیت کے حامل مزدور، ملازم و نوکر ہوتےہيں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان  ہے کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ اور نماز کی امامت تو وہ عظیم وظیفہ ہے جو امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ساری زندگی انجام دیتے رہے۔ اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء راشدین جو امت کے حکمران بھی ہوتے اور نماز کے امام بھی۔

جیساکہ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہيں مدرسے کے بڑے مہتمم مدیر صاحب یا ان کے جماعتوں کے بڑے اپنے آپ کو بہت بڑی شخصیت سمجھنے والے اس بات سے قدرے عار محسوس کرتے ہيں کہ ہم کیوں پابندی کرتے ہوئے مسجد کے امام صاحب بنیں، معمولی سی تنخواہ یا قابل گزارہ رہائش دیے گئے قاری صاحب امام صاحب ہیں ناں اس کام کے لیے، ہماری شخصیت اور عہدہ اس سے بالاتر ہے کہ ہم یہ ذمہ داری نبھائيں۔

ایسے دینی دعوتی نظام رکھنے والوں کے ہاں قاری صاحب مولوی صاحب کا درجہ ، اوقات اور وظائف بھی سب سے کم تر ہوتےہیں،  حالانکہ  حدیث میں ہے کہ جن چیزوں پر اجرت لی جاتی ہے ان میں سے سب سے زیادہ مستحق تو اللہ کی کتاب ہے، بلکہ وہ تو اس سے کہیں بالاتر ہے۔(دینی امور پر اجرت لینے کے جائز یا ناجائز ہونے پر مناظرے کرنے والوں سے پیشگی معذرت)

ہمارے ہاں سائنس ٹیکنالوجی کے ماہرین، ڈاکٹر، انجنئیر، ماہرین اقتصادیات وغیرہ کو بڑے وظائف کے لائق سمجھا جاتا ہے حالانکہ وہ  آپ کی فانی دنیا  کا کچھ کام کرلیتے ہیں، جبکہ جو آپ کی پیدائش کےاصل مقصد اللہ کی عبادت، دین و آخرت سنوارنے کی تعلیم دے اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے، سب سے کم اہمیت والا کام اسے سمجھا جاتا ہے۔ پھر کہتے ہيں مسلمان پستی کا شکار کیوں ہيں۔ ویسے سنا ہے سعودی عرب وغیرہ جیسے ممالک میں دینی عالم کو دنیاوی بڑے پیشوں والوں  پر مادی و معنوی فوقیت دی جاتی ہے الحمدللہ۔(کیا یہ سچ ہے؟ کمنٹس میں بتائيں)

الغرض جس طرح منتظمین سے گزارش ہے کہ قاری صاحب مولوی صاحب سے خصوصی درجہ دینا تو درکنار کم از کم  عام مسلمان کےجو حقوق ہيں یعنی جو اپنے لیے پسند کرے اس کے لیے پسند کرے والاہی  سلوک کرلیا جائے۔

اور قاری صاحب مولوی صاحب سے بھی گزارش ہے کہ وہ اسی چیز پر محدود ہوکر انحصار کرتے ہوئے اپنے استحصال کروانے اور درگت بنوانے پر راضی نہ ہوں۔ بلکہ اس تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں ہنر اور ذرائع اختیار کرکے خود کفیل ہونے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالی سب کا حامی و ناصر ہو۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے