TariqBrohi

ملک میں قانون سازی کرنے کو مطلقاً طاغوتی کہہ کر تکفیر کرنا؟!

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہمارے ہاں تکفیری خارجیوں کا پسندیدہ موضوع ہے کہ تمام اسلامی ممالک غیرالہی قوانین وضعی قوانین طاغوتی عدالتوں اور فیصلوں کی وجہ سے کافر ہیں، اور ان کے پاس فیصلے لے جانا مطلق کفر و نفاق ہے۔ اس وجہ سے وہ تمام معاہدوں اور قوانین سب کو کفر ہی کفر باور کرواتے ہيں خواہ وہ ٹریفک سگنل کےقوانین ہی کیوں نہ ہوں،  اور طاغوتی سسٹم کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے کو توحید و ایمان باور کرواتےہیں۔ جس کا کئی بار ہم نے الحمدللہ دلائل سے رد کیا ہے۔ تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری کتاب: موجودہ مسلمان ممالک کو اسلامی ریاستیں تسلیم نہ کرنا؟

جس میں ہم نے نقل کیا تھا کہ:

اسلامی جمہوریۂ پاکستان کا دستور – 12 اپریل 1973ع

چونکہ اللہ تبارک وتعالی ہی پوری کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق  ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے۔ چونکہ  پاکستان کے جمہور کی من شاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے، جس میں مملکت اپنے اختیار و اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی، جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا۔

جس میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات  و مقتضیات کے مطابق، جس طرح قرآن پاک اور سنت میں اس کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں۔

بلکہ آگے چل کر اس کے نکتہ رقم 31 میں اسلامی طرز زندگی کے تحت  لکھا ہے کہ:

پاکستان کے مسلمانوں  کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور انہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائيں گے جن کی مدد سے وہ قرآن پاک او رسنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔

پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لیے کوشش کرے گی:

1- قرآن پاک  اور اسلامیات  کی تعلیم کو لازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کے لیے سہولت  بہم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح اور من و عن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا۔

2- اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دینا۔

3- زکوٰۃ، عشر، اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا۔

اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل، پاکستان کا آئینی ادارہ ہے۔ 1973ء کے آئین میں جب شق نمبر 227 شامل کی گئی جس کے مطابق پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے مخالف نہیں بنایا جائے گا تو عملاً اس کا باقاعدہ نظام وضع کرنے کی غرض سے اسی آئین میں دفعہ نمبر 228، 229 اور 230 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے نام سے 20 اراکین پر مشتمل ایک آئینی ادارہ بھی تشکیل دیا گیا جس کا مقصد صدر، گورنر یا اسمبلی کی اکثریت کی طرف سے بھیجے جانے والے معاملے کی اسلامی حیثیت کا جائزہ لے کر 15 دنوں کے اندر اندر انہیں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھا۔ شق نمبر 228 میں یہ قرار دیا گیا کہ اس کے اراکین میں جہاں تمام فقہی مکاتب ِفکر کی مساوی نمائندگی ضروری ہوگی وہاں اس کے کم از کم چار ارکان ایسے ہوں گے جنہوں نے اسلامی تعلیم و تحقیق میں کم وبیش 15 برس لگائے ہوں اور انہیں جمہورِ پاکستان کا اعتماد حاصل ہو۔

پاکستان کے صدر وزیر اعظم اور دیگر عہدیداران جو حلف اٹھاتے ہیں اس کے الفاظ بھی کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں:

میں ___ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں میں مسلمان ہوں ‘ اﷲ تعالیٰ  کی وحدت اور توحید پر، کتب الہیہ پر جن میں قرآن پاک آخری کتاب ہے‘ نبوت حضرت محمد رسول اللہH  بحیثیت خاتم النبین جن کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا پر، روزِ قیامت پر اور قرآن و سنت کے جملہ تقاضوں اور تعلیمات پر ایمان رکھتا ہوں کہ میں خلوصِ نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا کہ بحیثیت صدر پاکستان میں اپنے فرائض ایمان داری ‘ انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ‘ سالمیت‘ استحکام‘ بہبودی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا ۔

یہ کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔  یہ کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا۔ یہ کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا۔ یہ کہ میں ہر حالت میں ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ بلاخوف و رعایت اور بلا رغبت و عناد قانون کے مطابق انصاف کروں گا۔ اور یہ کہ میں کسی شخص کو بلاواسطہ یا بلواسطہ کسی ایسے معاملے کی نہ اطلاع دوں گا اور نہ اسے ظاہر کروں گا جو بحیثیت صدر پاکستان میرے سامنے غور کے لیے پیش کیا جائے گا یا میرے عمل میں آئے گا بجز جبکہ بحیثیت صدر اپنے فرائض کی کماحقہ انجام دہی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہو۔ اﷲ تعالیٰ میری مدد اور ہنمائی فرمائے۔آمین!

دراصل مسلمان حکومت قانون بنا کر کوئی کفر و شرک نہيں کرتی اور نہ وہ اللہ کی شریعت سازی میں اس کی شریک بنتی ہے، یہ مغالطہ ہے جو وہ دیتے ہيں، پہلے کہ خوارج بھی امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پر انسانوں میں سے حکم و فیصل مقرر کرنے پر کفر کا فتویٰ لگارہے تھے کہ یہ اللہ کے حکم میں غیر کو شریک کررہا ہے، اور آیت پڑھتے کہ حکم صرف اللہ کا ہونا چاہیے، چنانچہ امیر المؤمنین نے بالکل صحیح کتاب و سنت کے فہم کے مطابق اپنا تاریخی جواب ارشاد فرمایا کہ:  ان کا کلمہ تو برحق ہے لیکن استدلال  و مراد باطل ہے۔

شیخ محمد گوندلوی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

عبادات کے معاملے میں ہم پابند ہيں کہ جب تک شرعی حکم نہ ہوں ہم وہ کام نہ کریں۔ لیکن دنیاوی عادات اور امور میں ہميں اجازت ہے کہ ہم مصلحت پر مبنی جو چاہیں کریں صرف وہ شریعت کے مخالف نہ ہوں۔

امور عادیہ میں بھی  کچھ شرعی احکام ہوتے ہيں لیکن جہاں کوئی شرعی حکم نہ ہو وہاں ہم کو اجازت ہے کہ ہم اپنے تجربات اور معلومات سے فائدہ اٹھائيں۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو کھجور کی پیوندکاری کے بارے میں بطور مشورہ فرمایا کہ یہ کام چھوڑ دو لیکن انہیں پھر اس پر نقصان ہوا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں کوئی بات دین کے بارے میں کہوں تو میں اللہ پر جھوٹ نہيں بولتا (یعنی بذریعۂ وحی کہتا ہوں) اگر کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو میں بشر ہوں۔

اور ایک روایت میں ہے کہ تم اپنے دنیا کے کام زیادہ بہتر جانتے ہو۔[1]

احکام کے بارے میں اصل یہ ہی ہے کہ حسن و قبح یعنی کسی چیز کا اچھا یا برا ہونا عقلی ہے، اگرچہ صرف اس بنیاد پر ہم اس حکم کو ثابت نہيں کرسکتے، شریعت سے الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔  جیسے نبی کے مقاصد میں سے ذکر ہوا کہ ان پر پاکیزہ چیزیں حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے۔[2]

لہذا سیاسی و معاشرتی امور میں فائدہ اور نقصان کو ملحوظ رکھتے ہوئے عقلی طور پر زجر و تنبیہ کی صورت میں قانون بناسکتے ہیں بس شرط یہ ہےکہ شریعت کے خلاف نہ ہو۔

حاصل کلام یہ ہے کہ انفرادی معاملات میں شخصی فیصلہ اور اجتماعی میں مفاد عامہ کے پیش نظر فیصلہ قابل قبول ہے۔

جیسا کہ اضطرار کی حالت میں مردار بقدر ضرورت کھانا جائز ہے اسی طرح  معاشی ضرورت کی بنا پر بعض پابندیاں اٹھ جاتی ہیں مثلاً ایک شخص غیراسلامی حکومت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے تو اس صورت میں اس کا قانون تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہيں۔ اگر غیراسلامی حکومت میں گائے ذبح کرنے کی مخالفت ہو تو اس کی پابندی کرسکتا ہے مگر بت پرستی کے خلاف رہتے ہوئے اس سے مدد لے سکتا ہے اور چور کو وہ سزا جو رائج ہو دلا سکتا ہے۔۔۔کیونکہ اسلامی آئین کے نفاذ کا مخاطب وہ مسلمان ہے جو مختار ہو نہ کہ مجبور، یعنی حاکم مختار ہے نہ کہ مجبور۔

دراصل قانون سازی کا مقصد حفظ امن ہے مگر اس کے ذرائع میں اختلاف ہوتا ہے۔ ہر ملک چوری کو بند کرنا چاہتا ہے مگر تعزیرات میں اختلاف ہوتا ہے۔ اسلامی آئین میں چوری کے انسداد کے لیے جو سزا مقرر کی گئی ہے وہ چوری کو روکنے کی انتہائی تعزیر ہے۔دوسرے قوانین جو اس کی کم سزا تجویز کرتے ہیں وہ انتہائی سزا نہيں بلکہ چوری کے روکنے کی ایک تدبیر ہے۔ مسلمان کی کوشش تو یہ ہی ہونی چاہیے کہ وہ اسلامی سزا نافذ کرے، اگر کسی جگہ وہ اسلامی سزا نافذ نہ کرسکے تو اس صورت میں جو سزا تجویز کرنا اس کی طاقت میں ہو وہ چوری کو روکنے کی ایک تدبیر ہوگی، اس میں چور کی اعانت نہیں بلکہ جس کا مال چوری ہوا اس ہی کی اعانت ہوگی۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا [3] اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ: میں جو حکم دوں تو اپنی طاقت بھر اسے بجا لاؤ۔[4] لہذا ایسا کرنا جائز ہوگا۔اھ

چنانچہ ابھی کل ہی مجھ سے ایک دوست سوال پوچھ رہا تھا کہ چوری ہوئی ہے اور ہمیں پکا یقین ہے کہ گھر کے ملازم نے کی ہے، حالانکہ خود بتارہے تھے کہ جیب سے لیے ہوں گے، ساتھ فرمانے لگے کہ لیکن ہمارے ہاں پولیس اور قانون تو غیراللہ کا کفریہ ہےچور کے ہاتھ کاٹنے کا نہيں تو کیا میں طاغوت پولیس کے پاس (منافقو ں کی طرح ) فیصلے لے جاؤں!!

حالانکہ ایسے جذباتی لوگوں کو بس باتیں کرنا اور مسلم ممالک میں فتنہ فساد پھیلانا آتا ہے جن سےایسی ساتھی متاثر ہوتے ہیں جیسے ساحل عدیم قسم کے لوگ علم کچھ نہیں ہوتا، امریکہ اور صہیونیوں  کی سازشوں والی کتابوں کی بڑی جہالت پر مبنی معلومات رکھی ہوتی ہیں، دوسری طرف جن شرعی حدود سزاؤں کی بات کرتے ہيں اس تک کے تفصیلی احکام نہیں آتے، نہ ہی پاکستان کے آئین و قوانین کا کچھ انہیں پتہ ہوتا ہے۔

شریعت میں بھی صرف ایک روپیہ چرانے پر چوری کی حد نہیں، اس کا باقاعدہ سونے کے دینار کےحساب سے نصاب مقرر ہے، اور دیکھا جاتا ہے کیا واقعی حرز یعنی چھپا کر رکھا تھا مالک نے یا نہیں، یا کسی کو خود گھر میں آنے جانے کی اجازت دی تھی جیسے مہمان یا ملازم یا اس کے علاوہ کوئی باقاعدہ دیوار پھلانگ کر تجوری توڑ کر چرانے آیا تھا۔ چورکے حالات کیا تھے، ملک میں قحط سالی تھی یا لوگ بھوکوں مر رہے تھے وغیرہ۔

موجودہ دور میں چوری پر شرعی حد (ہاتھ کاٹنے کی سزا) لاگو ہونے کے لیے مال کی کم از کم مالیت (جسے فقہ کی اصطلاح میں نصابِ سرقہ کہا جاتا ہے) کوئی طے شدہ کاغذی کرنسی (جیسے روپے، دینار یا ڈالر) نہیں ہے، بلکہ شریعت نے اسے سونے یا چاندی کے مخصوص وزن سے طے کیا ہے۔

کرنسی کی قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے اس کا حساب فقہاء کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق سونے یا چاندی کے موجودہ ریٹ سے لگایا جاتا ہے۔ اس میں دو بڑے فقہی موقف ہیں:

  1. جمہور علماء کا موقف (شافعی، مالکی، حنبلی اور کتبِ حدیث)

جمہور علماء کے نزدیک چوری کا نصاب چوتھائی دینار ( Dinar) یا 3 درہم ہے۔

  • سونے کے حساب سے وزن: ایک شرعی دینار کا وزن گرام سونا ہوتا ہے۔ اس کا چوتھائی حصہ گرام سونا بنتا ہے۔
  • موجودہ مالیت نکالنے کا طریقہ: آپ کے ملک یا شہر میں 24 قیراط (24k) سونے کے 1 گرام کی جو بھی موجودہ قیمت ہے، اسے سے ضرب (Multiply) دے دیں۔ حاصل ہونے والی رقم شرعی نصاب ہوگی۔ آج مؤرخہ 6 جولائی 2026 فی گرام ریٹ  37,972 ہے  اور مندرجہ بالا حساب سےمالیت 40345 روپے تقریباً بنتی ہے۔ اور یہ جذباتی لوگ 1 ہزا رپر بھی ہاتھ کاٹنے کا نعرہ بلند کررہے ہوتے ہيں۔
  1. فقہ حنفی (احناف) کا موقف

فقہ حنفی کے نزدیک چوری کا نصاب 10 درہم ہے (اس سے کم قیمت کی چوری پر حد لاگو نہیں ہوتی بلکہ حکومت اپنے طور پر تعزیری سزا یعنی جیل یا جرمانہ دے سکتی ہے)۔ اور ہمارے ہاں زیادہ تر فقہ حنفی ہی رائج ہے خواہ آپ اس سے راضی ہوں یا نہ ہوں۔

  • چاندی کے حساب سے وزن: ایک شرعی درہم کا وزن گرام چاندی ہوتا ہے۔ اس حساب سے 10 درہم کا کل وزن گرام چاندی بنتا ہے۔
  • موجودہ مالیت نکالنے کا طریقہ: مارکیٹ میں خالص 1 گرام چاندی کی موجودہ قیمت کو سے ضرب دے کر یہ مالیت نکالی جاتی ہے۔

ایک انتہائی اہم شرعی اصول:

اسلامی قانون میں ہاتھ کاٹنے کی سزا محض مالیت پوری ہونے پر فوری طور پر نافذ نہیں کر دی جاتی، بلکہ اس کے لیے انتہائی سخت شرائط مقرر ہیں جن کا پورا ہونا لازمی ہے:

  1. حرز (محفوظ جگہ): مال کسی ایسی جگہ سے چرایا گیا ہو جو عام طور پر بند یا محفوظ ہوتی ہے (جیسے لاکر، گھر، دکان یا تالا لگا ہوا بکس)۔ کھلی جگہ یا سڑک پر پڑے ہوئے مال پر حد نہیں ہے۔
  2. شدید مجبوری نہ ہو: چور نے وہ چوری کسی شدید بھوک، قحط، یا زندگی بچانے کی ناگزیر مجبوری میں نہ کی ہو۔ (جیسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے قحط کے سال حد معطل کر دی تھی)۔
  3. شبہ کا نہ ہونا: اگر کیس میں معمولی سا بھی شک یا شبہ پیدا ہو جائے، تو اسلام کا اصول ہے کہ حد ساقط ہو جاتی ہے اور قاضی پھر ہاتھ کاٹنے کے بجائے قید یا مالی جرمانے جیسی تعزیری سزا سناتا ہے۔حدیث کا بھی مفہوم ہے جتنا ہوسکے حدود میں کچھ بھی شک ہوجانے پر اسے مسلمانوں سے دور رکھو۔ اگرچہ اس کی سند میں مقال ہے لیکن فقہاء کے نزدیک دیگر نصوص کی روشنی میں یہ قاعدہ بالکل صحیح ہے۔

ہمارے پاکستانی قانون  میں تو لکھا ہے کہ:

پاکستان میں چوری کی شرعی سزا سے متعلق باقاعدہ قانون "The Offences Against Property (Enforcement of Hudood) Ordinance, 1979” (پراپرٹی کے خلاف جرائم، نفاذِ حدود آرڈیننس 1979) کہلاتا ہے۔ اس قانون کے تحت چوری کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: سرقہ بالحد (وہ چوری جس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا آتی ہے) اور سرقہ بالتعزیر (جس پر عام سزا یعنی قید یا جرمانہ ہوتا ہے)۔ 

اس آرڈیننس کے مطابق چوری کی سزاؤں اور شرائط کی تفصیل درج ذیل ہے:

  1. حد کی سزائیں:

اگر کوئی شخص تمام شرائط کے ساتھ ایسی چوری کرے جس پر شرعی حد لاگو ہوتی ہو، تو آرڈیننس کی دفعہ 9 (Section 9) کے تحت سزاؤں کی یہ ترتیب ہے: 

پہلی مرتبہ چوری پر: مجرم کا سیدھا ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جائے گا۔

دوسری مرتبہ چوری پر: مجرم کا الٹا پاؤں ٹخنے تک کاٹا جائے گا۔ 

تیسری مرتبہ یا اس کے بعد چوری پر: مجرم کو عمر قید (تا دمِ مرگ) کی سزا دی جائے گی۔ (البتہ اگر وفاقی شرعی عدالت مطمئن ہو جائے کہ مجرم سچی توبہ کر چکا ہے، تو اسے رہا بھی کیا جا سکتا ہے)۔ 

نوٹ: قانون کے مطابق یہ سرجری (امپوٹیشن) حکومت کا مجاز میڈیکل آفیسر (Authorized Medical Officer) سرانجام دے گا۔ 

  1.  حد لاگو ہونے کے لیے نصاب کی شرط:

آرڈیننس کی دفعہ 6 کے تحت چوری شدہ مال کی ایک کم از کم مالیت طے کی گئی ہے، جسے "نصاب” کہتے ہیں۔ آفیشل قانون کے مطابق: 

نصاب کی مقدار 4.457 گرام خالص سونا (یا چوری کے وقت اس کے برابر مالیت کی کوئی بھی چیز) مقرر ہے۔ 

اگر چوری شدہ مال کی قیمت اس طے شدہ نصاب (4.457 گرام سونے کی موجودہ قیمت) سے کم ہوگی، تو ہاتھ کاٹنے کی سزا لاگو نہیں ہوگی۔   جو آج کے حساب سے 169241 تقریباً بنتی ہے۔

  1. ثبوت کا معیار :

ہاتھ کاٹنے کی سزا سنانے کے لیے عام عدالتوں کے مقابلے میں ثبوت کا معیار انتہائی سخت رکھا گیا ہےدفعہ 7 کے تحت چوری صرف دو طریقوں سے ثابت ہو سکتی ہے: 

مجرم عدالت کے سامنے خود اعترافِ جرم (Confession) کرے۔

کم از کم دو بالغ مسلمان مرد گواہ (علاوہ متاثرہ شخص کے) چشم دید گواہی دیں، جن کے بارے میں عدالت "تزکیۃ الشہود” (کردار کی جانچ) کے ذریعے مطمئن ہو کہ وہ سچے ہیں اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ (اگر ملزم غیر مسلم ہو، تو گواہ غیر مسلم ہو سکتے ہیں)۔ 

  1. وہ حالات جن میں حد لاگو یا نافذ نہیں ہوتی :

قانون کی دفعہ 10 اور 11 کے تحت کئی ایسے حالات بیان کیے گئے ہیں جن میں ہاتھ کاٹنے کی سزا معطل ہو جاتی ہے: 

خاندانی رشتہ داری:

اگر چوری قریبی رشتہ داروں کے درمیان ہو (جیسے میاں بیوی، والدین اور بچے، بہن بھائی وغیرہ)۔

مہمان یا ملازم:

 اگر گھر کے مہمان نے چوری کی ہو، یا ایسے ملازم نے چوری کی ہو جسے اس جگہ تک آنے جانے کی اجازت  حاصل تھی۔

مجبوری یا بھوک:

 اگر مال کسی شدید ضرورت، بھوک یا خراب ہونے والی غذائی اشیاء پر مشتمل ہو۔ 

اعتراف یا گواہی واپس لینا:

 اگر مجرم سزا پر عمل درآمد سے پہلے اپنا اعتراف واپس لے لے، یا گواہ اپنی گواہی سے مکر جائیں۔ 

توبہ:

اگر مجرم گرفتاری سے پہلے توبہ کر کے مال مالک کو لوٹا دے اور خود کو قانون کے حوالے کر دے۔ 

  1. تعزیری سزا:

اگر چوری تو ثابت ہو جائے لیکن اوپر بیان کردہ سخت شرائط (جیسے نصاب پورا نہ ہونا، گواہوں کا معیار پورا نہ ہونا یا رشتہ داری ہونا) پوری نہ ہوں، تو حد ساقط ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں مجرم کو تعزیر کے تحت سزا دی جاتی ہے، جو کہ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت ہوتی ہے اور اس میں عام طور پر 3 سال تک کی قیدِ سخت، جرمانہ یا دونوں سزائیں شامل ہوتی ہیں۔ 

اور حدود آرڈیننس میں مہمان اور ملازم سے متعلق جو استثنا رکھا گیا ہے، وہ بالکل شرعی اصولوں اور فقہ اسلامی کے عین مطابق ہے۔

فقہ کی زبان میں اس اصول کو "شُبہ فی الحِرز” (حفاظت کی جگہ میں شبہ یا شک پیدا ہو جانا) کہتے ہیں۔ شریعت کا یہ پکا اصول ہے کہ معمولی سا شک یا شبہ بھی پیدا ہو جائے تو حد (ہاتھ کاٹنے کی سزا) ساقط ہو جاتی ہے، اور اس کی جگہ تعزیری سزا (قید یا جرمانہ) دی جاتی ہے۔

مہمان اور ملازم کے معاملے میں شرعی وجہ درج ذیل ہے:

  1. مہمان کا معاملہ:
  • شرعی اصول: چوری پر ہاتھ کاٹنے کے لیے لازمی ہے کہ مال "حرز” (ایسی محفوظ جگہ جہاں عام لوگوں کو جانے کی اجازت نہ ہو) سے چرایا گیا ہو۔
  • شبہ کی وجہ: جب آپ کسی کو اپنے گھر میں مہمان بلاتے ہیں، تو آپ اسے خود اپنے گھر (حرز) میں داخل ہونے کی اجازت اور رسائی دیتے ہیں۔ چونکہ اسے وہاں آنے کی اِذن (اجازت) حاصل تھی، اس لیے وہاں "حرزِ کامل” (مکمل سیکیورٹی اور پرائیویسی) کی شرط برقرار نہیں رہتی۔
  • فقہی حکم: اگر مہمان گھر سے کوئی چیز چرائے گا تو اسے چور ضرور مانا جائے گا، لیکن اس پر ہاتھ کاٹنے کی حد لاگو نہیں ہوگی، بلکہ قاضی اسے جیل یا جرمانے کی تعزیری سزا دے گا۔
  1. ملازم یا نوکر کا معاملہ:
  • شرعی اصول: اگر گھر یا دکان کا ایسا ملازم چوری کرے جسے مالک کی طرف سے اس جگہ یا مال کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی تھی، یا اسے وہاں ہر وقت آنے جانے کی اجازت تھی، تو وہاں بھی حد ساقط ہو جاتی ہے۔
  • شبہ کی وجہ: ملازم کے پاس اس جگہ کی امانت اور رسائی ہوتی ہے۔ شریعت کے مطابق یہاں جرم کی نوعیت "چوری” (سرقہ) سے زیادہ "خیانت” بن جاتی ہے۔ اور اسلام کا اصول ہے کہ خیانت کرنے والے (خائن) پر ہاتھ کاٹنے کی حد نہیں ہے۔ (بلکہ غلام کا معاملہ تو اور بھی مختلف ہے کہ وہ خود اپنے آقا کا مال ہے، اور اپنے ہی مال نے اپنے مال میں سے کچھ لے لیا، تو اس پر حد نہیں بنتی)

رسول اللہ H کا فرمان بھی ہے کہ لوٹنے والے، خائن اور اچک کر لے جانے والے  کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔[5]

جیسے گن پؤانٹ پر لوٹنے والے یا موبائل سنیچنگ کرنے والے۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ:

اسلامی تاریخ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ کے غلاموں نے ایک قبیلے کا اونٹ چوری کر کے ذبح کر دیا۔ جب یہ معاملہ خلیفۂ وقت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے دیکھا کہ مالک (حاطب) اپنے ملازموں اور غلاموں کو پورا کھانا نہیں دیتا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے مجبوراً یہ قدم اٹھایا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ  نے غلاموں کا ہاتھ نہیں کاٹا (حد ساقط کر دی)، بلکہ ان کے مالک پر اونٹ کی دگنی قیمت کا بھاری جرمانہ عائد کیا۔[6]

حدود آرڈیننس میں یہ باتیں اس لیے شامل کی گئیں کیونکہ شریعت ایسے جرائم میں جہاں امانت داری، اجازتِ دخول (آنے کی اجازت) یا کسی قسم کا مالی/نفسیاتی دباؤ موجود ہو، وہاں ہاتھ کاٹنے جیسے سخت ترین قانون کے نفاذ کو روک دیتی ہے اور اس کی جگہ تعزیری سزا (جیسے قید) دینے کا حکم دیتی ہے، تاکہ انصاف کے ساتھ ساتھ رحمت اور مصلحت کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چُھٹے۔

اور ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر بھی اخلاقی انحطاط کا شکار ہونے کے سبب گواہ شرعی معیار کے دستیاب نہیں ہوتے، قوم مجموعی طور پر اپنی اصلاح کی کوشش کرے تو حدود کا نفاذ  صحیح طور پر ہوپاتا ہے۔ بعض لوگوں کو اگر سزا نہیں مل رہی ہوتی تو اسلام ہی کےسخت قوانین گواہ اور ثبوت کے پیش نظر اور معمولی شک شبہہ پر بھی حدود کے نفاذ سے پرہیز دین شریعت و سنت نے ہی سکھایا ہے۔ ہم تو ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کسی مرد عورت کو بعض جاہل قبائل ودیہات والے بات کرتا دیکھ کر بدکار قرار دے کر قتل کردیتے ہیں اور اسے غیرت و دین تک کا نام دیتے نہیں شرماتے۔ جبکہ اسلام میں تو اس کی سب سے کڑی ترین شرائط ہیں چار مرد گواہ جنہوں نے باقاعدہ وہ کام کرتے ہوئے آنکھوں سے دیکھا ہو، جو اسلامی تاریخ میں کبھی ہوا بھی نہیں ہے۔ جس میں دینِ رحمت کی خوبی ظاہر ہوتی ہے اور اللہ تعالی پردہ پوشی کو بھی پسند فرماتا ہے، معاشرے میں برائی نہ پھیلے اور یہ بھی کہ اللہ کے حضور توبہ کی ترغیب ہو وغیرہ جیسے مقاصد کا بھی حصول ممکن ہوتا ہے۔

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ تمام مسلمانوں کو کتاب و سنت پر فہم سلف صالحین کے مطابق چلنے کی توفیق دے، اور تمام مسلمان حکومتوں کو صحیح طور پر شریعت کے نفاذ کی توفیق دے جس میں خود ہماری  اور تمام انسانیت کی فلاح و بہبود ہے۔


[1] صحیح مسلم 6128۔

[2] الاعراف: 157۔

[3] البقرۃ: 286۔

[4] صحیح بخاری 7288۔

[5] ابو داود 4391-4393۔

[6] المؤطا امام مالک: کتاب الأقضية، باب القضاء في الضواري والعتيق۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے