TariqBrohi

جامع مسجد گرے سِٹریکچر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آپ کی نظر سے بھی ایک ویڈیو کلپ گزرا ہوگا جس میں ایک چور اپنا چوری شدہ مال کہیں چھپا کر اوپر قبر مزار  کی سی معمولی سی نشانی لگا دیتا ہے، پکڑے جانے کے کچھ  عرصے بعد جب وہ جیل سے چھوٹ کر آتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ وہاں لوگوں کا میلہ ٹھیلہ، لنگر  وچڑھاوے  ہورہے ہیں اور خوب مال لٹایا جارہا ہے !

بالکل اسی طرح کے مناظر پاکستان میں بھی کبھی ہائے وے وغیرہ پر سفر کے دوران نظر سے گزرتے ہیں کہ بیابان میں رنگ برنگے درگاہوں والے یاشیعہ والے عَلَم لگے ہوئے ہيں، پھر خود رُو کھمبیوں(مشروم) کی مانند ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، اور ایک دن آئے گا کہ ایک بے نام قبر اے ٹی ایم کی طرح اس پر مجاور بنے بیٹھوں  کو نسل در نسل کام دھندے کی فکر سے آزاد نوٹ چھاپ کر دیتی رہے گی! کیا بعید کہ اپنے شرکیہ عقائد کے باطل ہونے کا یقین رکھنے کے باوجود بھی جو ان سے چمٹ کر کماتے رہتے ہیں شاید اسی معنوں میں وہ اسے "حاجت روا  مشکل کشا” کہتے ہوں!

یہ ہی حال مختلف دینی تنظیموں جماعتوں اور شخصیات کا بھی دیکھنے میں آتا ہے مختلف مسالک کے لوگ پاکستان کے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد ، راولپنڈی ہو یا مختلف صوبوں کے دور آفتادہ  بلکہ شمالی پہاڑی علاقےجات میں بھی  آتی جاتی گاڑیوں سے ٹوکری پھیلائے مسجد کے لیےچندے کی اپیل کررہے ہوتے ہیں(جنہیں میری زوجہ محترمہ سمجھ رہی تھیں کہ یہ کوئی اسٹرابیری یا چیری بیچ رہے ہوں گے، مگر دھندہ کچھ اور نکلا)، بلکہ کراچی کی روایتی منی بس میں تو مخصوص اسٹاپ کی مسجد کا کوئی بھی نمائندہ بن کر  جو کل تک  شیشی توڑ ضمانت والا دانتوں کا منجن بیچتا تھا  اب اسی مسجد کا چندہ بٹورنے کا منجن بیچ رہا ہے!

کوئی محلہ،  سوسائٹی وغیرہ بنی نہيں ہوتی کہ پہلے ہی مسجد کے پلاٹ کے حصول کے لیے جائز وناجائز ہتھکنڈے مختلف مسالک کے لوگوں میں رسہ کشی کا سبب بننے لگتے ہیں۔ بلکہ میں جہاں کراچی میں رہتا تھا پیچھے ایک جنگل بیابان سی جگہ کو باقاعدہ آگ لگا کر لینڈ مافیا نے پہلے جگہ صاف کی  پھر بلاضرورت مسجد کی تعمیر شروع کردی گئی، اور تو اور کچھ عرصے بعد ایک کچرہ کنڈی میں بھی اسی قسم کی کارروائی ایک نام نہاد جہادی تنظیم کے زیرسرپرستی کی گئی، بندہ اتفاقاً نماز پڑھنے گیا تو مچھروں کی بےلگام فوج آپ کے رکوع و سجود تک کوایک جہاد بنانے پر تلی ہوئی تھی۔  گلشن اقبال کراچی کے ایک علاقے میں کئی سال دعوتی کام کا بھی تجربہ رہا تو وہاں مختلف مسالک کی مساجد سب کی سب گندے نالے والی پٹی پر بنی ہوئی اور تعفن اٹھتے رہنے کی وجہ سے نئے لوگوں کے لیے نماز پڑھنا دوبھر ہوجاتا جبکہ پرانے عادی اور سن ہوچکے ہوتے، دو پیسے بھی انتظامیہ اپنی جیب سے خرچ کرکے کسی خوشبو کا یا بدبو کے ازالے کا انتظام نہيں کرتی تھی۔ بعض مساجد کا نام ہی یہ پڑ جاتا ہے کہ: گندے نالے والی مسجد پر آجانا کل شام!

ایک دوست پراپرٹی ڈیلر نے یہ حقیقت آشکارا کی کہ یہ تو عام طریقۂ واردات ہے ایسے لینڈ مافیا قماش لوگوں کا، لوگوں کے دینی جذبات کے ذریعے نفسیاتی دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر حربہ ہے کہ جہاں کالونی سوسائٹی وغیرہ  بنانی ہو تو سب سے پہلے غیرقانونی مسجد بنادو، کوئی گرا نہیں سکے گا، اگر کسی نے جسارت کی تو اس کے خلاف اسلام دشمنی کا فتویٰ لگوا کر عوامی جذبات کو ان کے خلاف بھڑکا سکیں گے(جیسے اسلام آباد کے گرین بیلٹ پر قابضین بھی کرتے ہیں کچھ عرصہ قبل بھی اس قسم کا تنازعہ ہوچکا ہے) پھر اس کے بعد کیا جناب! دیکھتے ہی دیکھتے میری آنکھوں کے سامنے اب وہ گنجان آباد کالونی بن چکی ہے!

masjid in islamabd G 13 park

(اسلام آباد کے ایک سیکٹر میں مسجد بننے کا منظر جس کے خلاف اہل محلہ کورٹ تک میں گئے تھے)

بلکہ بعض تو ایسی مساجد بھی یاد ہیں بچپن سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ آدھی ادھوری گرے سِٹریکچر میں ہی چل رہی ہے، اور سدابہار چندہ اپیل جاری و ساری ہے۔ یا کچھ تھوڑا بہت عوام کو لگائے گئے چونے سے بچا چونا مسجد پر بھی لگا دیتے ہيں رنگ و روغن کی مد میں۔ دراصل مختلف مسالک کےلوگ علاقے آباد ہونے سے پہلے یا لینڈ مافیا سوسائٹیاں بنانے والے پہلے ہی غیر آباد علاقوں کو ہدف بناتے ہيں،  ان کے پلاٹوں کی چاندی ہوجاتی ہے اور مولوی حضرات  کی آنے والی نسلوں کا معاشی مستقبل محفوظ ہوجاتا  ہے۔ بعض تو بچوں کے پارک کو بھی آہستہ آہستہ کھلی فضا میں جماعت سے شروع کرتے کرتے مسجد بنادینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔اس سب کے باوجود اگر کوئی سمجھے کہ دینی تبلیغی جذبے سے لبریز کوئی حضرت ویرانے میں جھنڈا گاڑے  جن بھوتوں کو دعوت اسلام دے رہے ہیں  تو وہ بڑے بھولے بادشاہ ہے، جبکہ کارروائی ڈالنے والے حضرت ویژن 2030 سے بھی آگے ہیں۔

لہذا آپ کے بچوں کے جوان ہوجانے تک بھی ایسی مساجد کا گرے سِٹریکچر رہنا "چندہ ماما دور کے” والی کاروباری حکمت عملی ہے، اور آپ ایم بی اے ہی کرتے رہ گئے۔ باقی رونق لگانا اور اندر کام بہت چل رہا ہے دکھانا  اس کے لیے غریب ضرورت مند اساتذہ اور بچوں کی فوج بآسانی پسماندہ علاقوں سے مل جاتی ہے۔

کراچی میں فلیٹوں کے اندر اپنی اپنی ڈیڑھ انچ مساجد کے رواج کے بعد تو دیکھتے ہی دیکھتے آپے سے باہر ہوکر پلازہ توڑ پُر شُکوہ عمارت  اپنی بلندی میں ان فلیٹوں کی جڑواں بہن لگنے لگتی ہے۔دین ترقی کررہا ہے حضور ساتھ ہی ائیر بی این بی چھوڑمفت تبلیغیوں کے چلہ کش  ٹولیوں کے طعام و قیام کا بھی بندوبست ہوگیا۔

اسی طرح ماضی میں بیت اللہ میں چارمصلوں کی بدعت  کی طرح پنڈی میں ایک ہی گلی میں  بندے کم مسجد زیادہ دیکھ  "مولوی صاحب چارکرنا تو جائز ہے”  والا معاملہ محسوس ہوا!

بہرحال ان سب سے بہتر ہے انسان عافیت میں رہ کر اپنے دین ایمان کا صحیح علم حاصل کرے، آس پڑوس محلے، مسجد ، کام کی جگہ اور سِکول وغیرہ میں توحید و سنت   کا  اور شرک و بدعات کی روک تھام کا حسب طاقت ، علم و حکمت کے ساتھ پرچار کرے، اور تعمیر مساجد کے ایمان افروز عظیم نیکی کے کام کو گورکھ دھندا بنانے والے باقاعدہ بعض مولویوں کی گینگ وار سے دور رہیں۔ کیونکہ مہنگے اور اشرافیہ کے علاقوں میں مساجد پر چندہ فنڈ بینک کے تگڑے ہونے کے سبب توباقاعدہ ہتھیاروں کے ساتھ تک غنڈہ گردی کرتے ہوئے قبضے کرلیے جاتے ہیں، اللہ المستعان۔  ایسی ہی ایک مشہور مسجد کو عربیوں سے بدمعاشی کے زور ہتھیانے والوں نے تو اب ترقی کرکے عالیشان ہسپتال، یونیورسٹی اور ناجانے کیا کچھ بنالیا ہے، اگرچہ سامنے کئی برس سے یونیورسٹی روڈ کی لاش کھلی پڑی ہوئی ہے۔  ویسےجس ملک میں گداگر بھکاریوں تک کی ہاتھا پائی ہوجاتی ہے اس بات پر کہ سگنل ہمارے گینگ کا یا تمہارے، تو یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

اللہ تعالی سب کو وہ عمل کرنے کی توفیق دے جسے وہ پسند کرتا ہے اور اس  سے وہ راضی ہوتا ہے ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے