TariqBrohi

کیا شیخ ربیع المدخلی رحمہ اللہ تکفیری تھے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: میں نے بعض تبلیغی جماعت کے لوگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ربیع المدخلی چاروں مذاہب کے پیروکاروں کی تکفیر کرتے ہیں (انہیں کافر کہتے ہیں)، اللہ آپ کی حفاظت فرمائے، اس بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟[1]

جواب:

 میں کہتا ہوں: سبحان اللہ! یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے! واقعی ہر بدعتی جھوٹا ہوتا ہے، بدعتی لازماً جھوٹ بولتا ہے اور(ظاہر ہے)  وہ اپنی بدعت کو جھوٹ کے بغیر فروغ دے بھی نہیں سکتا، اس کے پاس کوئی دلیل وغیرہ نہیں ہوتی! میں نے یہ بات کہاں کہی ہے؟! ان کے پاس (اپنے دعوے کا) کوئی ثبوت نہیں!

قُلْ هَاتُواْ بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

کہو کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔[2]

کسی بھی شخص کے لیے یہ کہنا آسان ہے کہ "فلاں نے یہ کہا ہے”، لیکن ہم کہتے ہیں: اپنی دلیل لاؤ۔ تم نے (ان سے) دلیل کیوں نہیں مانگی؟! انہوں نے (یعنی شیخ ربیع نے) یہ بات کہاں کہی ہے؟!

ان لوگوں سے اس طرح کے سوالات پوچھا کرو، یہ سوال تمہارے ہتھیاروں میں سے ایک ہونا چاہیے: کہاں؟ کس کتاب میں؟ کس آڈیو کیسٹ میں؟ اس سے تم پر ان کا جھوٹ واضح ہو جائے گا۔

سلمان العودہ نے اپنی کتاب (جو الطائفۃ المنصورۃ کی احادیث کے متعلق تھی) میں کچھ حصہ "الفرقۃ الناجیۃ” (نجات پانے والے گروہ) کے لیے اور کچھ حصہ "الطائفۃ المنصورۃ” (مدد یافتہ گروہ) کے لیے مقرر کیا۔ یعنی کچھ احادیث انہوں نے الطائفۃ المنصورۃ کے لیے رکھیں اور کچھ الفرقۃ الناجیۃ کے لیے۔[3] انہوں نے الفرقۃ الناجیۃ میں اہل حدیث، فقہی مذاہب کے پیروکاروں اور عام لوگوں وغیرہ کو داخل کیا۔ میں نے (بطور الزامی دلیل) ان سے کہا: تم نے زیدیہ (شیعہ) اور بعض خوارج کو اس میں کیوں شامل نہیں کیا؟ کیونکہ مجھے یمن کے قابل اعتماد لوگوں سے یہ بات پہنچی ہے کہ زیدیہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو قبر پرستی کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔ مجھے عمان کے قابل اعتماد لوگوں سے بھی معلوم ہوا ہے کہ بہت سے خوارج قبروں کی عبادت کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف  چاروں ائمہ کی طرف جھوٹ اور بہتان کے ساتھ منسوب ہونے والے لوگ بھی موجود ہیں(یعنی بعض لوگ حق کے ساتھ ان کی طرف منسوب ہیں اور بعض جھوٹ کے ساتھ) تو  ان میں سے بہت سے قبر پرست ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو قبر پرستی کے خلاف لڑتے  ہیں۔

میں نے صرف یہ اشکال ان کے سامنے پیش کیا تھا، لیکن انہوں نے (شوشہ چھوڑ دیا کہ):  یہ خوارج اور زیدیہ کو اہل سنت کے مذاہب پر ترجیح دیتے ہیں!  یہ سراسر جھوٹ ہے! میں نے تو بس ان کے ایک باطل قول پر ان کے سامنے دلیل و الزام قائم کیا تھا![4]

پھر حدادیہ آئے اور وہ یہ افترا (بہتان) لے کر آئے اور پہلے کہا: "(شیخ ربیع گمراہوں کو سنیوں پر) ترجیح دیتا ہے”، اور اب اس کو مزید بڑھا کر "تکفیر” تک پہنچا دیا!!(یعنی کہتے ہیں ربیع تکفیر کرتا ہے)!

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ

بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔[5]

(یعنی صرف نسبتوں سے کچھ نہیں ہوتا)  واللہ! ایسے لوگ ہیں جو امام مالک کی طرف منسوب ہیں لیکن وہ تیجانیہ، مرغنیہ وغیرہ (صوفی سلسلے) سے ہیں، اسی طرح امام شافعی کی طرف منسوب کچھ لوگ صوفی اور قبر پرست ہیں، اور امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب تو بہت سے لوگ قبر پرست ہیں(ہمارے ہاں بریلویوں کو دیکھ لیں)۔ ان کو یہ نسبت کوئی فائدہ نہیں دے گی، انہیں اصلاح اور حق بات واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

یہاں تک کہ ان لوگوں کی بھی ہم اس وقت تک تکفیر نہیں کرتے جب تک ان پر حجت تمام نہ ہو جائے۔ اور میرا یہ مؤقف معروف ہے؛ میں کسی ایسے شخص کی تکفیر نہیں کرتا جو کفر میں مبتلا ہو جائے جب تک کہ اس پر حجت قائم نہ کر دی جائے۔

سید قطب جو کہ حلول اور وحدت الوجود وغیرہ کے قائل ہیں، ان کے بارے میں بھی کفر کے حکم سے متعلق ہمیں پہلے یقینی تصدیق کی ضرورت ہے، میں نے ان کی بھی تکفیر نہیں کی، ہم اللہ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

ہم ناحق تکفیر کے خلاف جنگ کرتے ہیں(بلکہ تکفیری اسی وجہ سے باطل طور پر مرجئہ ہونے کی تہمت ان پر لگاتے ہیں)۔ تکفیر اگر حق کے ساتھ اور اقامتِ حجت کے بعد ہو تو یہ وہ معاملہ ہے جسے اللہ عزوجل نے مشروع کیا ہے:

وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً

اور ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں۔[6]

وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ إِنَّ اللّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان کے لیے وہ چیزیں واضح نہ کر دے جن سے انہیں بچنا چاہیے، بے شک اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔[7]

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيراً

اور جو شخص ہدایت واضح ہو جانے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے کی پیروی کرے، ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ مڑا ہے اور اسے جہنم میں جھونک دیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔[8]

 پس اس وقت تک کسی کو کافر نہیں کہا جائے گا جب تک اس پر حجت تمام نہ ہو جائے۔

یہ ابن تیمیہ، ابن القیم اور ائمہ سلف کا مذہب (مؤقف) ہے؛ کیونکہ جو مسلمان کفر میں مبتلا ہوتا ہے حالانکہ وہ (بطور مسلمان) اسلام پر فخر بھی کرتا ہے لیکن اس سے کفر سرزد ہو گیا ہو، تو ہم اس کی تکفیر اس وقت تک نہیں کرتے جب تک اس پر حجت قائم نہ ہو جائے۔ ہم عموم اور محض بحث و جدال کی بنیاد پر تکفیر نہیں کرتے، ہم اللہ تعالی ہ یسے عافیت کے طلب گار ہیں۔

فتاوى في العقيدة والمنهج (الحلقة الثالثة)


[1] ان کے علاوہ بھی بعض ہندوستانی علماء نے یہ جھوٹی تہمت لگائی تھی جیسے مولانا سلمان ندوی اور انیس الرحمن اعظمی۔

[2] البقرۃ: 111۔

[3] اس کتاب میں تکفیریوں کی طرح جو حکمرانوں کے خلاف لڑتے بھڑتے ہیں انہیں طائفہ منصورہ قرار دیا، اور ترس کھا کر اہل حدیث سلفیوں کو جو یہ حرکت نہيں کرتے کم از کم فرقہ ناجیہ میں داخل کہہ دیا کہ جہنم سے بچ سکتے ہیں، حالانکہ یہ باطل تقسیم ہے اور شیخ ربیع المدخلی رحمہ اللہ نے اس کے رد پر کتاب لکھی کہ اہل حدیث ہی طائفہ منصورہ اور فرقۂ ناجیہ ہے۔

[4] شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے خلاف بھی صوفی لوگ اس طرح کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ دیکھو مشرکین عرب کو بہتر کہہ رہا ہے موجودہ قبرپرستی کرنے والے نمازی حاجی مسلمان کہلانے والوں سے، اسی طرح حسن بن فرحان المالکی نے الزام لگائے جس کا رد شیخ ربیع رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "دحر افتراءات۔۔۔” میں کیا ہے۔ بلکہ ابھی کل ہی کوئی صوفی تبلیغی میری پوسٹ پر یہ ہی کمنٹ کررہا تھا کہ دیکھو مشرکین عرب کو مسلمانوں سے بہتر کہہ رہا ہے کہ وہ کلمے کے معنی کو ان سے زیادہ سمجھتے تھے۔ جان بوجھ کر عوامی جذبات ابھارنے کے لیے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔

[5] الحجرات: 13۔

[6] الاسراء: 15۔

[7] التوبۃ: 115۔

[8] النساء: 115۔

شیخ ربیع المدخلی رحمہ اللہ کی کتب کے دروس کے لیے پیٹریون جوائن کیجیے

سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے