TariqBrohi

رقیہ (دم جھاڑ) کو باقاعدہ کام وپیشہ بنالینے کا خطرہ – شیخ ربیع المدخلی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سب سے افضل چیز (جس سے دم جھاڑ کیاجاتا ہے) وہ اللہ کا کلام ہے پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام ہے، لہذا افضل کو ہی اختیار کریں۔

کیا آپ لوگوں میں بھی رقاۃ (دم جھاڑ کرنے والے) موجود ہیں؟ واللہ! میں سلفیوں کو نصیحت کرتاہوں کہ اس  دروازے میں داخل نہ ہوں ، نہ کوئی خود سے اپنے آپ کو پیش کرنے والا بن جائے۔شیخ الالبانی، ابن باز، ابن عثیمین  رحمہم اللہ نے کیا اپنے آپ کو ان چیزوں کے لیے پیش کیا تھا؟  اور سلف صالحین صحابہ  رضی اللہ عنہم  میں سے اور تابعین اور آئمہ ہدایت جیسے احمد، مالک الشافعی رحمہم اللہ کیا انہوں نے اپنے آپ کو اس طرح سے پیش کیا تھا؟! پھر آپ کی ان کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟ ہم کہتے رہتے ہیں: سلف سلف، اور یہ کہ ہم سلفی ہیں، لیکن پھر اس کے بعد یہ چیزیں ایجاد کرتے ہیں!

رقیہ (دم جھاڑ) جائز ہے لیکن ان طریقوں سے نہیں۔ پس آپ حقیقی طور پر اہل اتباع بنیں (بارک اللہ فیکم) اور ان چیزوں کو چھوڑ دیں  جو دعوت کی اور داعیان کی بدنامی کا سبب بنتی ہیں، بارک اللہ فیکم۔

اگر کوئی انسان آکر آپ سے رقیہ طلب کرتا ہے تو اسے رقیہ کردیں، یا پھر وہ آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس چلا جائے، بات ختم۔ شفاء تو اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، وہ اللہ سے دعاء کرے اللہ سبحانہ و تعالی   اسے شفاء دے گا، اور اخلاص کے ساتھ خود اپنے لیے  یہ (مسنون) دعائيں کریں، تو اللہ  سبحانہ و تعالی  اس کے لیے چھٹکارے کی راہ پیدا فرمادے گا:

وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا، وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ

اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے تو وہ اس کے لیے ہر مشکل سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ پیدا فرمادیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطاء فرماتا ہے جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہيں ہوتا۔[1]

سائل: شیخ (اگر ہم یہ نہيں کریں گے تو) ہمیں یہ ڈر ہے کہ عوام  جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے پاس جاتے رہیں گے؟

شیخ ربیع: تو چھوڑ دیں انہیں کہ جائيں اور واپس لوٹ کر نہ آئيں، آخر آپ کو کس نے اس کا مکلف بنایا ہے؟! خود اپنے آپ کو، اپنی زندگی اور دین کو خراب کررہے ہیں، بس اس لیے کہ وہ لوگ جادوگروں کے پاس چلے جائيں گے! (سب کو) آپ دم جھاڑ کریں گے؟ اپنے آپ کو آپ نے دم جھاڑ کرنے والا مقرر کرلیا ہے؟

سائل: شیخ ایسا نہيں ہے لیکن وہ خود میرے پاس آتے ہیں۔

شیخ ربیع: چھوڑ دو، چھوڑ دو۔ وہ آپ کے پاس آتے نہیں مگر صرف اسی وجہ سے کہ آپ نے خود کو بطور رقیہ کرنے والا تعینات کررکھا ہے۔اس چیز کو چھوڑ دو (بارک اللہ فیک) ۔ اللہ  سبحانہ و تعالی  کی خاطر لوگوں کو چھوڑ دو، بے جا تکلف اختیار نہ کرو:

وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ

اور نہ میں بناوٹ و تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔[2]

اسی چیز کو حجت بنانے والے مدینہ میں جو پہلے دم جھاڑ کرنے والے تھے وہ ہمارے ہم جماعت تھے۔ اور وہ بہت اچھے سلفی تھے۔ اور مسجد نبوی میں پڑھایا کرتے تھے۔ اللہ کی قسم ! مدینہ میں ان کا بہت اثر تھا صوفی نوجوانوں میں ، دوسروں سے زیادہ ان سے متاثر تھے، لیکن پھر کیا، شیطان ان کے پاس آیا! اللہ کی قسم انہوں نے اس میں قدم رکھنے سے پہلے مجھ سے مشورہ کیا تھا کیونکہ وہ میرے ہم جماعت ودوست تھے مجھ سے مشورہ کیا اور کہا: یا شیخ ربیع! میں نے فلاں کو رقیہ سکھایا، اب وہ رقیہ کرتا ہے اور پیسے بھی لیتا ہے کبھی تو 14 ہزار ریال تک لے لیتا ہے!!

 میں نے کہا: میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں اس باب میں داخل نہ ہونا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ لوگ ورنہ عاملوں اور جادوگروں کے پاس جایا کریں گے۔ میں نے کہا: آپ اس کے مسؤول نہیں۔ اور میں نے کہا: آپ جادوگروں اور عاملوں پر کوئی دسترس نہیں رکھتے؟ کہا: ہاں۔ میں نے کہا: آپ وہ کریں جو داعیان الی اللہ کرتے ہیں۔ شیخ عبداللہ القرعاوی  رحمہ اللہ   کو دیکھ لیں وہ جب ہمارے علاقے میں آئے تو بہت سے لوگ اتنے مریض تھے کہ صاحب فراش ہوچکے تھے، اٹھنے تک کی سکت نہ تھی۔ کس وجہ سے؟ جنات کی اور عورتوں کے جن اتارنے  کے دعویدار حال ودھمال ڈالنے والے لوگوں وغیرہ کی وجہ سے۔ وہ گھر سے نکلتے تھے تو رات کے وقت درختوں پر سے اور راستوں میں جنات چڑھ جاتے تھے۔ ان پر شیاطین کا تسلط تھا ان جاہلوں کے پاس توحید نہ تھی۔ پس آپ آئے اور توحید کو نشر کیا کوئی دم جھاڑ وغیرہ نہ کیا اور یہ تمام باتيں ختم ہوگئیں۔ جب توحید و علم کا  پرچار ہوا تو یہ تمام باتیں ختم ہوگئیں۔  جب توحید وعلم عام ہوتا ہے تو اس قسم کی اشیاء چلی جاتی ہیں اور زائل ہوجاتی ہیں۔ اور جب بھی جہالت کا دور دورہ ہوتا ہےتو جادوگر، کاہن اور شیاطین وغیرہ کی کثرت ہوجاتی ہے۔ اور ایسی حالت میں جادوگروں، کاہنوں اور شیاطین میں باہم تعاون ہوتا ہے۔

پس میں نے اسے نصیحت کی کہ وہ کام کرو جو مصلحین کرتے ہیں یعنی توحید کی دعوت اور شرک وخرافات کے خلاف جنگ  جس کے نتیجے میں شیاطین خود انہیں چھوڑ کر بھاگ جائیں گیں پھر شیاطین یا جادو وغیرہ سے بچنے کے لیے کسی دم جھاڑ کرنے والے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن وہ نہ مانا اور اس دم جھاڑ کے کام میں لگ گیا! پھر اس کے بعد کیا ہوا۔ اس کے بعداور بھی  لوگ اس کے مقابلے میں (رقیہ کرنے والے) کھڑے ہونے لگے کوئی ریاض میں ہے تو کوئی تبوک میں اور کوئی جدہ میں۔ چنانچہ اس نے اخبار میں لکھا کہ شیطان انسان میں داخل نہیں ہوسکتا!! حالانکہ جب وہ لوگوں پر دم کیا کرتا تھا تو سختی کے ساتھ اس انسان کی پٹائی کرتا تھا! اور (جن سے مخاطب ہوکر) کہتا تھا: نکلو اس میں سے اے اللہ کے دشمن نکلو! یعنی وہ اس بات کا اعتراف کیا کرتاتھا کہ شیطان انسان کے اندر داخل ہوسکتا ہے!! پھر جب اس کا مقابلہ کرنے والوں کی کثرت ہوگئی تو کہنے لگا: شیطان انسان کے اندر داخل ہوہی نہیں سکتے!! (ایسے لوگوں کی طرف سے) یہ سب کھلواڑ وحیلے بازی کے سوا کچھ نہیں، بارک اللہ فیکم۔

اتباعِ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے کیا اسی طرح کرو، خوامخواہ کا تکلف نہ اپناؤ۔ اللہ  سبحانہ و تعالی  کے لیے مخلص بنو، اللہ  سبحانہ و تعالی  سے دعاء کرو تو اللہ  سبحانہ و تعالی  تمہیں نفع پہنچائے گا۔ سب سے بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ ہے۔ اور دم جھاڑ کرنے کے تعلق سے یہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ ہے۔ اس میں توسع اختیار نہ کر۔ عقیدے، علم اور عمل کے اعتبار سے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہی طریقے کو اپناؤ ۔یہاں تک کہ رقیہ کے بارے میں آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے ہی پر چلو، ایسی چیزوں کو تکلف اختیار نہ کرو جو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیں۔

میرے بھائیو! میں آپ کو اللہ  سبحانہ و تعالی  کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں:

وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا، وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ

اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے تو وہ اس کے لیے ہر مشکل سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ پیدا فرمادیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطاء فرماتا ہے جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہيں ہوتا۔[3]

ابواب میں سے کوئی بھی باب ہو اللہ  سبحانہ و تعالی  ضرور آپ کے لیے چھٹکارا اور نکلنے کی راہ بنادے گا، اگر آپ اللہ  سبحانہ و تعالی  کا تقویٰ اختیار کریں گے تو وہ آپ کے لیے دنیا اور آخرت میں چھٹکارے کی راہ بنادے گا۔ اللہ  سبحانہ و تعالی  کے تقویٰ کے ذریعے آپ اللہ  سبحانہ و تعالی  کے غضب و غصے سے بچ جائيں گے، اور آخرت میں اس کے عذاب سے بھی نجات پائيں گے۔اس تقویٰ کے بدولت اللہ  سبحانہ و تعالی  نے آپ کے لیے ایسی جنت تیار کررکھی ہے جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے جتنی ہے، جو اس نے متقیوں کے لیے تیار  کر رکھی ہے:

اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًا،حَدَاۗىِٕقَ وَاَعْنَابًا، وَّكَوَاعِبَ اَتْرَابًا

یقیناً متقیوں ( پرہیزگاروں)  کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے ۔باغات اور انگور ۔اور ابھری چھاتیوں والی ہم عمر لڑکیاں ۔[4]

یہ سب چیزیں تقویٰ  کے ذریعے حاصل ہوتی ہيں۔ تقویٰ کے ذریعے آپ کواللہ  سبحانہ و تعالی  کی جانب سے مشکلات سے چھٹکارا، خوشحالی اور رحمت حاصل ہوتی ہے، اور آپ کو آخرت میں اس تقویٰ کے ذریعے اعلیٰ درجات حاصل ہوتے ہیں (بارک اللہ فیکم)۔ آپ صحیح العقیدہ اور سلیم المنہج بنیں، ٹھیک طور پر عبادت کرنے والے ہوں۔ اللہ سبحانہ و تعالی  نے جو عقائد شریعت بناکر مشروع کیے ہیں ان کا اعتقاد رکھیں جیسے توحید میں ربوبیت، اسماء و صفات اور توحید عبادت، اسی طرح اپنی نماز میں، روزے میں، زکوٰۃ میں، حج میں، والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے اور کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے بچنے میں۔

آپ کو چاہیے کہ اللہ  سبحانہ و تعالی  کا تقویٰ اختیار کیے رکھیں اور اخلاص کو لازم پکڑیں۔ عبادت میں اخلاص بہت ضروری ہے، طلب علم میں اور دعوت الی اللہ میں بھی، بلکہ ہر وہ کام جس سے آپ اللہ  سبحانہ و تعالی  کا تقرب حاصل کرنا چاہتے ہیں واجب ہے کہ آپ اس میں اللہ سبحانہ و تعالی  کے لیے مخلص ہوں:

فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ

پس اللہ کی عبادت کرو دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔[5]

قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ

کہو بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔[6]

اخلاص تو لازمی ہے جس کے بنا کوئی چارہ نہیں، اور آپ ریاءکاری سے بچیں، اور شرک سے بھی دور رہیں، شرک اکبر ہو یا اصغر۔ پس آپ علم حاصل کرتے ہيں اللہ  سبحانہ و تعالی  کے چہرے کے لیے تو فرشتے آپ کے اس عمل سے خوش ہوکر آپ کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں ۔ اور اگر آپ علماء کے درجے تک پہنچ جاتے ہیں تو آپ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے وارثوں میں سے بن جاتے ہيں، کس چیز میں؟ ایمان میں، تقویٰ میں، تبلیغ میں، دعوت الی اللہ میں، امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں، جہاد کے پرچم کو (اگر اس کا پرچم سربلند کیا جائے)  تھامنے میں اور ہر اس خیر میں جو لوگوں کو فائدہ دے یا لوگوں سے شر کو دور کرے۔

صحیح علم کے راستے کے سوا خیر نہیں پھیل سکتی، اور نہ ہی صحیح علم کے بنا  برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔  شرک کا خاتمہ بھی صحیح علم کے بغیر نہیں ہوسکتا، نہ ہی بدعات کا خاتمہ صحیح علم کے بغیر ممکن ہے، اور منکرات  کا خاتمہ بھی اسی صحیح علم کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ علم اور یہ خیر پھیل جائے تو فتنے کم ہوجاتے ہیں اسی طرح بدعات اور شرک اور آخر تک جتنی برائیاں ہیں کم ہوتی جاتی ہیں۔ اگر معاشروں میں سے کسی معاشرے میں علم کا راج ہو تو یہ سب چیزیں  بخارات بن کر اڑ جاتی ہیں سوائے نفاق میں سے کچھ بچ جائے کیونکہ منافقین تو ان چیزوں کو چھپاتے ہیں تو یہ ایک الگ بات ہے۔ لیکن جو ظاہری امور ہیں وہ تو غائب ہوتے جاتےہیں، الحمدللہ۔

طلب علم کےتعلق سے بھی آپ اللہ  سبحانہ و تعالی  کا تقویٰ اختیار کریں، اسے نشر کرنے، دعوت الی اللہ ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں بھی اسے اختیار کریں،  اللہ کے لیے اخلاص اپنائيں اس سے ڈریں اور اس کے لیے مخلص بنیں۔

آپ  علم کو لازم پکڑیں، علم کو تھامیں رہیں، وہ علم کہ جسے محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے ہیں: کتاب اللہ، اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سلف صالحین کے فہم کے ساتھ۔

یعنی اگر آپ پر کسی آیت یا حدیث کا فہم مشکل ہوجائے تو الحمدللہ شروحات و قرآن کی تفاسیر مدون ہیں۔ سلف کی تفاسیر جیسے تفسیر ابن جریر، تفسیر البغوی، تفسیر ابن کثیر، تفسیر عبدالرزاق  یعنی اس میں سے جس قدر مطبوع ہے، اسی طرح سے تفسیر ابن ابی حاتم میں سے جس قدر مطبوع ہے، بارک اللہ فیکم۔ ان میں سے بعض ہی آپ کے لیے کافی ہیں، اور تفسیر السعدی، بارک اللہ فیکم۔

آپ کو کتب توحید کو بھی لازم پکڑنا چاہیے، کتب عقیدہ اور حدیث کی شروحات: حافظ ابن حجر کی فتح الباری ساتھ ہی جو کچھ ان کی فتح الباری میں لغزشیں ہيں ان سے بچتے ہوئے، یہ صحیح البخاری کی سب سے عمدہ شرح ہے۔ لیکن یہ  بہت سے نصوص کو سمجھنے میں آپ کی مدد کرتی ہے جس سے بے نیاز نہیں ہوا جاسکتا، البتہ ساتھ ہی جو کچھ عقیدے کی مخالفتیں اس کتاب میں پائی جاتی ہیں ان سے خبردار رہتے ہوئے۔

پھر اے میرے بھائیو! آپس میں بھائی چارہ قائم رکھیں۔ ہم نے کبھی اس قسم کا تفرقہ اور پھوٹ نہیں دیکھی، واللہ! اب تو فتنوں نے سلفیت اور سلفیوں کو سارے جہاں میں اس طرح گھیر رکھا ہے کہ اس جیسی حالت پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ کیونکہ اب سراٹھانے والوں کی کثرت ہوگئی ہے اور صد افسوس کہ صدارتوں قیادتوں کی چاہت عام ہوچکی ہے۔ اسی طرح سے سلفیوں کی صفوں میں دسیسہ کاروں کی بھی کثرت ہے، جنہوں نے سلفیوں کا شیرازہ بکھیر کر تتر بتر کردیا ہے۔ لہذا تفرقہ بازی سے بچیں اور اس قسم کے تفرقہ مچانے والوں سے  متنبہ رہیں۔ اور آپس میں بھائی چارہ برقرار رکھیں، ایک جسم کی مانند ہوجائيں۔ جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى

آپ مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمدلی، محبت اور شفقت و دوستی کا معاملہ کرنے میں ایک جسم جیسا پائيں گے کہ جب اس کا کوئی بھی ٹکڑا  تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم تکلیف کے سبب بے خوابی اور بخار میں مبتلا رہتاہے۔[7]

الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا، ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ

ایک مومن کی دوسرے مومن کے ساتھ مثال ایسی ہے جیسے عمارت  ہوتی ہے، کہ اس کی اینٹیں ایک دوسرے کو پکڑے رکھتی ہیں (گرنے سے بچاتی ہیں) پھر آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو آپس میں ڈال کر دکھایا۔[8]

میں اب یہ سمجھتا ہوں کہ بہت سے سلفی ایسے ہیں کہ جب ان کا  کوئی بھائی بیمار ہوتا ہے یا اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس سے خوش ہوتا ہے اسے اس کا کوئی درد نہیں ہوتا! کیوں؟ ان فتنوں کی کثرت کی وجہ سے جو ان کے مابین پھیل چکے ہیں، اور انہیں اہل اہواء پھیلاتے ہیں۔

میں کئی ایک بار کہہ چکا ہوں  یقیناًہم نے سلفیوں کو پایا تھا دنیا کے مشرق و مغرب میں وہ سب کے سب ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے ایک منہج پر سب بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کوئی اختلافات نہیں تھے، اور سلفی دعوت سارے عالم میں مشرق و مغرب میں پھیل رہی تھی۔ پس خبردار رہیں ان  خبیث  یہود و نصاریٰ اور ان کے مشنری والوں، اور گمراہی کے سرغناں رافضیوں اور صوفیوں سے جو کہ دشمنوں اور گمراہ فرقوں سے  تعاون کرتے ہیں، واللہ! یہ لوگ دشمنوں سے تعاون کرتے ہیں اور ان کے درمیان خفیہ اور ظاہر تعلقات ہوتے ہیں۔ اور ان کا تعاون نہیں ہوتا مگر سلفی منہج کے ہی خلاف۔ پس وہ لوگ فرقہ واریت کا زہر سلفیوں میں گھولتے ہیں جب وہ دیکھتے ہيں کہ سلفیت دنیا کے مشرق و مغرب میں پھیل رہی ہے، تو وہ سلفیوں کے بیچ ہی میں تفرقے کا زہر گھولتے ہیں، اور انہیں برے طریقے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیتے ہیں۔

آخرکار ایسے لوگ پروان چڑھنے لگے جو سلفیت کو صحیح طور پر سمجھتے نہیں تھے حالانکہ ان میں ‎سے کوئی یہ گمان کرتا کہ وہ سلفی ہے!  مگر اس کے بعد آپ اسے نہيں پاتے مگر سلفیت کی جڑیں کاٹتے ہوئے ہی، اپنی بدسلوکی و برے منہج یا ان برے مناہج کی وجہ سے  جو اب پھیل چکے ہیں اور جن کا مقصد ہی سلفیوں میں تفرقہ اور پھوٹ ڈالنا ہے۔ سلفیت کو عقل مند ، رحمدل اور حکمت سے کام لینے والے لوگوں کی ضرورت ہے بلکہ اس سے بھی  پہلے اسے علماء کی ضرورت ہے۔ اگر یہ باتیں آج سلفیت میں نہ آئی ہوتیں تو سلفیت کہاں تک پہنچ چکی ہوتی؟ اسے ضائع کردیا ہے، بارک اللہ فیکم۔

لہذا علم حاصل کرو، آپ میں سے جو اپنے اندر قابلیت پاتا ہے  اللہ  سبحانہ و تعالی  نے اسے حفظ کا  اور فقہ فی الدین کا ملکہ عطاء فرمایا ہے تو وہ اپنی تمام تر توانائیاں تحصیل علم میں کھپا دے، تاکہ اللہ  سبحانہ و تعالی  اس کے ذریعے سے نفع پہنچائے اور وہ بقدر استطاعت بکھرے ہوئے سلفیوں کو اللہ کے دین حق پر جوڑنے کی کوشش کرے اور ان کے درمیان اخوت و الفت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

ایسے لوگوں کی تلاش کیجیے اور انہیں علم حاصل کرنے کی ترغیب دیں۔ اور سلفیوں کے مابین اخوت و مودت پھیلانے کی کوشش کریں۔ جہاں تک دوسروں کی بات ہے یہاں تک کہ یہود  ہوں یا نصاریٰ تو ان کے درمیان حکمت اور اچھے وعظ ونصیحت کے ساتھ دعوت پھیلانے کی کوشش کرتے رہيں۔

کیا آپ لوگ اللہ  سبحانہ و تعالی  کے اس فرمان کو نہیں پڑھتے:

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ

اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھے وعظ و نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔[9]

اللہ  سبحانہ و تعالی  اپنے رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمارہا ہے کہ اس اسلوب کو کافروں کے بیچ دعوت دینے کے لیے اپناؤ، کیونکہ بلاشبہ حکمت اور اچھے طور پر وعظ و نصیحت کرنا اگر دعوت سے نکل جائے تو دعوت ختم ہوجاتی ہے۔ اگر ہم وحشیانہ اخلاق اپنائيں گےاور لوگوں کو متنفر کریں گے، تو خلاص سلفیت ختم ہوجائے گی!

جیسا کہ احادیث میں ہے:

إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ

تم میں سے کچھ لوگ (دین سے) متنفر کرنے والے ہیں۔[10]

يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا

آسانی کرو اور تنگی نہ کرو،  اور خوشخبری دو اور متنفر نہ کرو۔[11]

چنانچہ ان اسالیب کو اپنائيں اگر آپ واقعی اپنے لیے اور لوگوں کے لیے خیر چاہتے ہیں۔ آپس کے تعلقات اور اس دعوت کو نشر کرنے میں قرآن و سنت کی ہدایت کی پیروی کریں۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا

محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو ان کے ساتھی ہیں وہ کافروں پر تو بڑے شدید ہیں جبکہ آپس میں بہت رحمدل ہیں، آپ انہیں پائيں گے رکوع کرتے۔۔۔[12]

فرمایا:

رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ

آپس میں بہت نرم ہیں۔

اور فرمایا:

وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ

اپنا بازؤ شفقت مومنین کےلیے پھیلا دو۔[13]

مزید فرمایا کہ:

وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ

اگرتم سخت مزاج سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے آس پاس سے چھٹ جاتے۔[14]

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انسانوں سے اکمل، افضل، فصیح ترین اور سب سے بڑھ کر علم رکھنے والے تھے۔اگر یہ صفت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اندر موجود نہ ہوتی تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بھی  آس پاس سے اٹھ جاتےاور انہیں اور ان کی دعوت کو چھوڑ دیتے، تو پھر تمہارے جیسے بیچارے کا کیا حال ہوگا! ہمیں حسن اخلاق اور حسن معاملات کی ضرورت ہے دوسروں سے پہلے خود آپس میں، اور بھائی چارہ اور ایک دوسرے کو برداشت کرنا، پھر اپنی دعوت میں بھی  ایسا کریں اور حکمت اور اچھے طور پر وعظ و نصیحت کو بروئے کار لائيں۔

اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ

کافرو ں پر سخت ہیں۔

یعنی اگر وہ ہماری دعوت قبول نہیں کرتے تو ہم ان کے خلاف قتال کریں گے جو قتال کے مستحق ہوں گے، لیکن ظاہر ہے اس سے پہلے کے جو اقدامات ہوتے ہیں ان کا لحاظ کرتے ہوئے جیسے دعوت دینا، بیان و وضاحت کردینا اور سب کچھ کرلینے کے بعد، بارک اللہ فیکم۔ اور منافقین پرشدت اپنانی ہے سے مراد ہے ان پر حجت تمام اور دلیل قائم کرنا مگر بداخلاقی سے نہيں۔

پس کافروں پر شدت اختیار کرنا تلوار سے ہوگا اگر وہ اسلام میں داخل نہیں ہوتے اور ہٹ دھری و تکبر اور اس جیسی حرکتوں کا ارتکات کیے جاتے ہيں اور مسلمانوں پر زیادتیاں کرنے لگتے ہيں تو اس وقت قتال کرنا مشروع ہے، بارک اللہ فیکم۔

شاہد یہ ہے کہ آج ہمارے پاس سوائے حجت وبرہان و اخلاق کے کوئی تلوار نہيں۔ اخلاق توگمراہوں کا دم گھٹنانے  کے لیے سب سے تیز دھار اسلحہ ہوتا ہے  اور حجت کے ساتھ ان کا بھرکس نکال دیں اور کافروں کے رد میں بھی یہی استعمال کریں، اور اسی میں سب کے لیے ان شاء اللہ ہدایت ہوگی، بارک اللہ فیکم۔

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کوان کامو ں کی توفیق دے جسے وہ پسند کرتا ہے اور ان سے راضی ہوتا ہے، اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ  سبحانہ و تعالی  مجھے اور آپ کو ان لوگوں میں سے کردے جو بات کو سن کر اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں۔

اپنے آپ کو عادی بنائیں کہ جو کچھ خیر اور حق کی بات آپ سنیں اس سے استفادہ حاصل کریں۔ اور اپنے آپ کو عادی بنائيں کہ اس کی تطبیق اور اس پر عمل کریں، بارک اللہ فیکم۔ تو ان شاء اللہ یہ جو برے حالات ہیں وہ حکمت اور دانشمندی سے ختم ہوتے جائيں گے۔ اور ہمارے دشمن ہمارے درمیان تفرقہ اور پھوٹ ڈالنے سے مایوس ہوجائيں گے۔ لیکن اگر ہم کان نہیں دھرتے اور ان اخلاق کو نہیں اپناتے تو پھر سلفی نوجوان اسی طرح ان کے دشمنوں اور مخالفین کے ہاتھوں کھلونا بنے رہیں گے۔

آپ کو حکمت اور عقلمندی، ساتھ ہی صبر، برداشت، حلم و بردباری اور باہمی اخوت کو لازمی پکڑنا چاہیے۔ پھر  اعلیٰ اخلاق کے ساتھ اس دعوت کو نشر کیجیے، تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح لوگ اس دعوت کی طرف لپکے آتے ہیں۔ ہم اپنے اور آپ کے لیے اللہ سے توفیق کی دعاء کرتے ہیں۔

اب میں آپ سے اجازت چاہوں گا، بارک اللہ فیکم، اصل مقصد زیادہ باتیں کرنا نہیں ہے۔ انسان تو کبھی بس ایک کلمہ سنتا ہے اور اللہ  سبحانہ و تعالی  اسے اس کے ذریعے ہی نفع پہنچا دیتا ہے۔ اور سلف تو بہت کم کلام کرنے والے تھے، ان کا کلام کم ہوتا لیکن اس کا نفع بہت زیادہ ہوتا، کیونکہ انہیں سامنے ایسے کان میسر آتے تھے جو دھیان سے سننے والے ہوتے تھے۔

پس ہم اپنے اور آپ کے لیے اللہ  سبحانہ و تعالی  سے توفیق کی دعاء کرتے ہیں۔


[1] الطلاق: 2-3۔

[2] ص: 86۔

[3] الطلاق: 2-3۔

[4] النباء: 31-33۔

[5] الزمر: 2۔

[6] الزمر: 11۔

[7] صحیح بخاری 6011۔

[8] صحیح بخاری 6026، صحیح مسلم 6586۔

[9] النحل: 125۔

[10] صحیح بخاری 704، صحیح مسلم 1044۔

[11] صحیح بخاری 69، صحیح مسلم 4528۔

[12] الفتح: 29۔

[13] الحجر: 88۔

[14] آل عمران: 129۔

عقیدہ و منہج کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہمارا پیٹریون سبسکرائب کیجیے

CLICK HERE

یا براہ راست استاد سے تعلیم حاصل کیجیے

CLICK HERE

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے