TariqBrohi

مساجد میں اذکار وغیرہ کے بورڈ آویزاں کرنا – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

[جہاں تک مساجد میں بطور تزیین و آرائش یا پھر یاددہانی کےلیے  آیات وغیرہ  لکھنا ہے تو اس سے اہل علم منع کرتے آئے ہيں۔اور اس میں آیات الہیہ کی توہین ہے ساتھ ہی یہ سلف صالحین کا عمل نہيں رہا۔ دیکھیں  امام مالک   کا کلام المدخل لابن الحاج  2/215 میں، اور النووی  کا التبيان في آداب حملة القرآن ص  110، ابن الہمام الحنفی  کا فتح القدیر 1/310،  ابن عثیمین کا لقاء الباب المفتوح 197 س 8 اور شیخ صالح الفوزان  کا کلام المنتقیٰ من فتاویٰ الشیخ الفوزان  2/77 میں]

سوال: آجکل ایسے بورڈز (پوسٹرز وغیرہ) بہت پھیل چکے ہیں جو مسجد میں نمازیوں کے سامنے لگائے جاتے ہیں  جن پر نماز کے بعد کے اذکار لکھے ہوتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: میرے بھائیوں مساجد میں اس طرح لکھنا اور تحریں لٹکانا جائز نہیں یہ فضول کام ہے اور جس سے منع کیا گیا ہے، جو نمازیوں کی تشویش کا سبب بنتا ہے۔ اس طرح کسی کو علم کی تعلیم نہیں دی جاتی، علم کی تعلیم  اسٹیکرز وغیرہ سے نہيں ہوتی بلکہ علم کی تعلیم دروس و محاضرات و کانفرنسس وغیرہ[1] سے ہوتی ہے ناکہ ان اسٹیکرز سے جو چسپاں کردیے جاتے ہیں۔ لہذا واجب ہے کہ مساجد ان اسٹیکرز اور لٹکائی گئی چیزوں سے پاک ہوں[2]۔

اسی طرح مساجد کے احکام ذکر کرتے ہوئے اپنے خطبے میں فرماتے ہیں:

۔۔۔ہمارے اس آج کے دور میں بعض دین دار نوجوانو ں نے یہ عادت اپنا لی ہے کہ وہ مساجد کے در و دیوار پر اسٹیکرز وغیرہ چسپاں کرلیتے ہيں، جن میں بعض اعلانات لکھے ہوتے ہیں یا بعض آیات یا احادیث یا نصیحتیں لکھی ہوتی ہيں۔ یہاں تک کہ بعض مساجد ایک نمائش گاہ یا عجائب گھر بن کر رہ جاتی ہے۔

اور یہ ایک نو ایجاد یافتہ عمل ہے جو کہ سلف صالحین کا عمل نہيں ہوا کرتا تھا۔ اس پر مزید اضافہ اس چیز کا کرلیجیے کہ یہ نمازیوں اور مسجد میں داخل ہونے والوں کو اللہ کے ذکر سے مشغول کردیتے ہيں[3]۔

اور کبھی تو جو کچھ لکھا ہوتا ہے وہ ایسی بات ہوتی ہے کہ جس کا نشر کرنا جائز نہيں ہوتا جیسے جھوٹی حدیث یا کسی باطل مذہب کی طرف لوگوں کو دعوت دینا[4]۔

اور بعض جاہل لوگ کتابیں اور پمفلٹس لاتے ہیں اور اسے مسجد میں تقسیم کے لیے رکھ دیتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ کتابیں یا پمفلٹس ایسے ہوں جن کی تقسیم کی اجازت نہ ہو کیونکہ وہ باطل باتوں اور غیر صحیح فتاویٰ یا بدعتی اوراد و اذکار پر مشتمل ہوں۔

پس واجب ہے کہ ان حرکتوں سے منع کیا جائے اور جو اس کے ذمہ داران ہیں وہ ایسا کرنے والوں کے ہاتھوں کو روکیں کہ کہیں ایسا نہ ہو معاملہ ترقی کرتا کرتا ایسی طرف نکل جائے جو اس سے بھی بڑھ کر خطرناک ہو جیسے مساجد کو اپنے گمراہ کن دعوتوں، اعلانات و خرافات کی آماجگاہ بنالینا۔

واجب ہے کہ کوئی بھی کتاب یا پمفلٹ یا فتویٰ دارالافتاء اور مطبوعات کی نشر و اشاعت کے منتظمین کی اجازت کے بغیر نہ تقسیم ہو تاکہ کہیں خرافات زدہ لوگوں کو  ہمارے درمیان اپنی خرافات پھیلانے کا موقع  ملے۔  مساجد کے آئمہ و مؤذنوں کو اس بات پر چوکنا رہنا چاہیے۔ اور واجب ہےکہ مساجد میں مصاحف قرآن کے سوا اور کچھ نہ رکھا جائے۔ جیسا کہ سلف صالحین اور ان کی اچھی طور پر پیروی کرنے والوں کے دور میں ہوا کرتا تھا۔

اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور ان مکرو فریب پر مبنی دسیسہ کاریوں سے خبردار ہوجاؤ اور کسی بھی کتاب یا پمفلٹ یا فتویٰ کو قبول نہ کرو جب تک  اسے ایسے اہل علم پر نہ پیش کرلو جن کے علم  و عقیدے پر اعتماد کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالی سب کو توفیق دے۔۔۔[5]


[1] فتح المجید کی شرح میں اور فتاوی ٰنور علی الدرب میں  بھی اسی بارے میں سوال کے جواب میں فرمایا  درس تدریس کے علاوہ لوگوں کو مسجد کے باہر صحیح کتابیں لٹریچر بھی دیا جاسکتا ہے۔

[2] آڈیو کلپ: حكم تعليق لوحات الأذكار في المساجد۔

[3] بعض میں تو طرح طرح کے ڈیزائن اور اپنے کاروبار تک کی تشہیر ہوتی ہے جو کہ مساجد میں ممنوع ہے۔ اسی طرح سوچنے کی بات ہے کہ نماز کے بعد کے اذکار مسنون ہيں واجب نہيں تو جو باتیں اس سے زیادہ ضروری اور واجب ہيں جیسے نماز پڑھنے کا طریقہ تو کل کوئی ان کی تصاویر بھی لگا دے؟! اور واقعتاً ہم نے کچھ عرصہ قبل یہ ملاحظہ بھی کیا کہ ایک مسجد میں نمازیوں کے سامنے صف بندی کی بڑی سی تصویریں لگا دی گئی ہيں کہ ایسی کی جائے! اللہ المستعان۔

[4] جیسے ہمارے یہاں مختلف گمراہ جماعتیں تنظیمیں  اپنی طرف دعوت دینے کے لیے انہیں اسپانسر کرتی ہيں اور اپنی  جماعت کا نام لوگو وغیرہ ذکر کرکے اس کی طرف دعوت دی گئی ہوتی ہے جبکہ حقیقت میں کوئی شرک و بدعات کی طرف دعوت دینے والی صوفی جماعت ہوتی ہے تو کوئی خارجی تکفیری ذہنیت والی جہادی خلافتی جماعت تو کوئی سیاسی جمہوری دینی اخوانی قسم کی جماعتیں و حزبیات جو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور دہرنوں تک کے اعلانات کے لیے مساجد کو استعمال کرتے ہیں۔ بلکہ یہ تک دیکھا گیا کہ مسجد اہل حدیثوں کی ہے لیکن  وہاں خرافات سے بھرپور تبلیغی جماعت کی فضائل اعمال بھی پڑی ہوئی ہے، یا پھر شرکیہ عقائد والے احمد رضا خان بریلوی کا قرآنی ترجمہ کنزالایمان یا خارجی تکفیری مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن سجی ہوئی ہے!

 [5] في بيان مكانة المساجد في الإسلام۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے