بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوال: آجکل ام القریٰ کی سالانہ اوقات نماز کا کیلنڈر کے بارے میں باتيں ہورہی ہيں خصوصاً نماز فجر کے تعلق سے، آپ سماحۃ الشیخ اس بارے میں کیا رہنمائی فرمائيں گے؟
جواب: ان شکوک پیدا کرنے والوں کی طرف توجہ نہ دی جائے۔ ام القریٰ کا کیلنڈر ملک عبدالعزیز رحمہ اللہ کے زمانے سے قابل اعتبار چلا آرہا ہے۔ اس کے بارےمیں کسی غلطی کا تجربہ اب تک نہيں ہوا ہے۔ مختلف زمانوں میں علماء کرام نے اس میں کوئی بھی غلطی ملاحظہ نہيں کی ہے۔
لیکن اس قسم کے لوگ دراصل فجر کی نماز میں اجالا ہونے تک تاخیر کرنا چاہتے ہیں جیساکہ حنفی مذہب میں ہے۔[1] لیکن جمہور نماز سویرے پڑھنے کے قائل ہیں۔[2] اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلس[3] کے وقت نماز فجر میں داخل ہوتے یعنی شدید اندھیرے میں، وہ اندھیرا اتنا ہوتا کہ کوئی آدمی اپنے ساتھی یا برابر والے کو نہ پہچان سکتا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے بہت سویرے پڑھا کرتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں طویل قرأت فرماتے یہاں تک کہ روشنی ہوجانے پر آدمی اپنے ساتھی کو پہچان لیتا۔ آپ H ساٹھ سے لے کر سو آیات تک تلاوت فرماتے۔[4] لہذا فجر نماز سویرے شروع کرتے تاکہ وہ طویل ہو اور دیر سے سلام پھیرتے بشرطیکہ یہ مقتدیوں پر مشقت کا سبب نہ بنے، کیونکہ اسی طرح ان احادیث میں جمع کیا جاسکتا ہے(یعنی سب پر عمل ہوجاتا ہے)۔[5]
[1] شرح فتح القدیر لابن الھمام الحنفی (1/156)۔
[2] المغنی (2/44)۔
[3] البخاری 560۔
[4] البخاری 599۔
[5] درس: توجيهات للآئمة والخطباء والمؤذنين.


