TariqBrohi

27ویں رات شب قدر ہونے کی سب سے زیادہ امید کی جاتی ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شبِ قدر کی سب سے زیادہ امید جس رات میں کی جاتی ہے وہ رمضان کی 27ویں شب ہے۔

یہی قول جمہور اہلِ علم کا ہے، اور یہی اقوال میں سب سے زیادہ راجح اور مشہور قول ہے۔ اس کی دلیل درج ذیل احادیث ہیں:

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَن كان مُتحَرِّيَها فلْيَتحرَّها لَيْلةَ سَبعٍ وعِشْرينَ، أو قال: تَحرَّوها لَيْلةَ سَبعٍ وعِشْرينَ -يعني: لَيْلةَ القَدْرِ

جو شخص اسے  تلاش کرنا چاہے وہ اسے ستائیسویں رات میں تلاش کرے۔ یا فرمایا: اسے ستائیسویں رات میں تلاش کرو۔ یعنی شبِ قدر کو۔[1]

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا:

يا نبيَّ اللهِ، إنِّي شيخٌ كبيرٌ عليلٌ، يشُقُّ عليَّ القيامُ، فأْمُرْني بليلةٍ لعلَّ اللهَ يُوفِّقُني فيها لليلةِ القَدْرِ، قال: عليكَ بالسابعةِ.

اے اللہ کے نبی! میں ایک بوڑھا اور بیمار آدمی ہوں، میرے لیے رات بھر قیام کرنا مشکل ہے، لہٰذا مجھے ایسی رات بتا دیں جس میں امید ہو کہ اللہ مجھے شبِ قدر نصیب فرما دے گا۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: تم ساتویں (یعنی ستائیسویں) رات کو لازم پکڑو۔[2]

معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ

شبِ قدر ستائیسویں رات ہے۔[3]

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ  سے جب کہا گیا آپ کے ساتھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں جس نے سارا سال قیام تو ظاہر ہے وہ یقینی طور پر شب قدر کو پالے گا، اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ ان پر رحم کرے دراصل وہ چاہتے ہوں گے کہ لوگ سستی کرکے بس ایک رات پر قناعت کرکے نہ بیٹھ جائيں بلکہ محنت کریں ورنہ تو انہيں بھی پتہ ہے کہ وہ رمضان کےآخری عشرے کی ستائیسویں رات ہے:

ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟، قَالَ: ” بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا

 پھر انہوں نے استثناء (یعنی ان شاء اللہ کہے) بغیر قسم کھا کر کہا: وہ ستائیسویں رات ہی ہے۔ اس پر راوی نے کہا: ابومنذر! یہ بات آپ کس بنیاد پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے کہ اس دن (سورج)   اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی شعائیں (تیز) نہیں ہوتیں۔[4]

ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْهُ حَتَّى بَقِيَ سَبْعُ لَيَالٍ، فَقَامَ بِنَا لَيْلَةَ السَّابِعَةِ حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ كَانَتِ اللَّيْلَةُ السَّادِسَةُ الَّتِي تَلِيهَا، فَلَمْ يَقُمْهَا حَتَّى كَانَتِ الْخَامِسَةُ الَّتِي تَلِيهَا، ثُمَّ قَامَ بِنَا حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ؟ فَقَالَ:” إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، فَإِنَّهُ يَعْدِلُ قِيَامَ لَيْلَةٍ”، ثُمَّ كَانَتِ الرَّابِعَةُ الَّتِي تَلِيهَا، فَلَمْ يَقُمْهَا حَتَّى كَانَتِ الثَّالِثَةُ الَّتِي تَلِيهَا، قَالَ: فَجَمَعَ نِسَاءَهُ وَأَهْلَهُ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ، قَالَ: فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قِيلَ: وَمَا الْفَلَاحُ؟، قَالَ: السُّحُورُ، قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْ بَقِيَّةِ الشَّهْرِ.

 ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے کسی بھی رات ہمارے ساتھ قیام نہ فرمایا یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں، تو ساتویں (یعنی 23 ویں) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ قریب ایک تہائی رات گزر گئی، پھر اس کے بعد چھٹی (یعنی 24 ویں ) رات کو جو اس کے بعد آتی ہے آپ نے قیام نہیں فرمایا یہاں تک کہ اس کے بعد والی پانچویں یعنی (25 ویں) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا یہاں تک کہ قریب آدھی رات گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، تو وہ ساری رات کے قیام کے برابر ہے، پھر جب اس کے بعد والی چوتھی (یعنی 26 ویں) رات آئی تو آپ نے اس میں قیام نہیں فرمایا، یہاں تک کہ اس کے بعد والی تیسری (یعنی 27 ویں ) رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور گھر والوں کو جمع کیا، اور لوگ بھی جمع ہوئے، فرماتے ہیں کہ: پس  آپ نے ہمارے ساتھ اس قدر قیام کیا   یہاں تک کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم سے "فلاح” فوت نہ ہو جائے، ان سے پوچھا گیا: یہ فلاح کیا ہے؟ فرمایا: سحری: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دنوں میں ہمیں کوئی قیام نہيں کروایا۔[5]


[1] صحیح الجامع: 2920۔

[2] اسے ابن رجب نے “لطائف المعارف” ص 360 میں صحیح کہا ہے، اور الأرناؤوط  نے بھی مسند کی تخریج 2149 میں صحیح قرار دیا ہے۔

[3] صحیح ابی داود: 1386۔

[4] صحیح مسلم 2777۔

[5] ابن ماجہ 1327۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے