بسم اللہ الرحمن الرحیم
بدعت سے متعلق ایک مسئلہ یہ ہے کہ بے شک بعض علماء امت میں بدعت کی آمیزش ہوئی اور انہوں نے بدعتیوں کے اقوال لیے، یا تو اشاعرہ سے یا ماتریدیہ[1] وغیرہ جیسے بدعتی اقوال اور باطل عقائد سے۔ تو ایسے علماء کا کیا حکم ہے؟
کیا ان کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ بھی ان ہی اہل بدعت میں سے ہیں جن سے برأت کا اظہار کیا جاتا ہے، جن کا اور جن کی کتابوں کا بائیکاٹ وغیرہ کیا جاتا ہے، یا پھر معاملہ اس کے برخلاف ہے؟
جواب: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہ بات ذکر [2]کی جب لوگوں نے ان کے لکھے گئے عقیدے یعنی مبارک و مختصر عقیدے (الواسطیۃ) کو لکھا تو انہوں نے اس کے متعلق ان سے مناظرہ کیا کہ آپ نے اپنے رسالے کے شروع میں یہ لکھا ہے:
امابعد: یہ عقیدہ ہے تاقیامت فرقۂ ناجیہ منصورہ [3]اہل سنت والجماعت کا۔۔۔
اس کا مطلب ہوا کہ آپ یہ فرمانا چاہتے ہیں جو یہ عقیدہ نہیں رکھتا تو وہ فرقۂ ناجیہ میں سے نہيں۔
آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:
میں نے یہ نہیں کہا اور نہ میرے کلام کا یہ تقاضہ بنتا ہے۔ کیونکہ بے شک میں نے تو یہ کہا ہے کہ یہ عقیدہ ہے فرقۂ ناجیہ منصورہ اہل سنت والجماعت کا، پس جو یہ عقیدہ رکھتا ہے وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جنہیں اللہ تعالی نے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراط مستقیم پر قرار دیا ہے، اور یہ لوگ نجات پانے والے ہيں جن سے نجات کا وعدہ کیا گیا ہے۔ البتہ جو یہ عقیدہ نہیں رکھتا بلکہ بدعات میں سے کوئی عقیدہ رکھتا ہے تو ہوسکتا ہے وہ نجات پائے یعنی وہ فرقۂ ناجیہ میں سے ہوجائے اور شاید نجات پاجائے جہنم کی آگ سے، یا تو برائی کو مٹانے والی نیکیوں کے ذریعے، یا اسلام میں کسی بڑے مرتبے والی شخصیت ہونے کی وجہ سے، یا ایسے علم نشر کرنے کے سبب جس سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچا ہو، جو اس سے صادر ہونے والی بدعت کا یا بدعتی عقیدے کاکفارہ بن جائے۔
اس سے آپ پر ظاہر ہوگا کہ ایسے علماء جن کی طرف تفاسیر القرآن، شروحات احادیث یا کتب فقہ میں بدعت میں سے کوئی چیز منسوب ہوتی ہے انہیں ہم بدعت کی طرف منسوب نہيں کرتے، بلکہ ان سب پر ترحم (رحم) کرتے ہيں، اور انہیں خیر اور اصلاح کی جانب منسوب کرتے ہيں۔ ہم ان کے وہ اقوال پیش نہیں کرتے جن میں انہوں نے غلطی کی، یا بدعت کی، یا اپنے بدعتی مشایخ سے کچھ اخذ کیا ہو ، الا یہ کہ جب بدعتی اقوال ذکر کرنے ہوں تو ذکر کرلیتے ہیں۔
مثلاً ہم امام النووی رحمہ اللہ کا فلاں حدیث کے بارے میں قول سنتے ہیں کہ وہ اشاعرہ کے قول کی طرف مائل ہوئے، یا تاویل کی، یا تقدیر سے متعلق ان کے کلام جیسا کلام کیا، یا ایمان سے متعلق ان کے کلام جیسا کلام کیا اور اس جیسی دیگر مثالیں۔ پس بلاشبہ ہم اس قسم کے مقام کو ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں: یہ اشاعرہ کا کلام ہے، یہ نہيں کہتے ہيں کہ النووی رحمہ اللہ مطلق طور پر اشعری ہیں، یا ابن حجر رحمہ اللہ اشعری ہیں، یا فلاں اشعری ہے وغیرہ، یا فلاں اس طرح علی الاطلاق ماتریدی ہے، نہیں۔ بلکہ ہم ان پر رحم کریں گے، کیونکہ بلاشبہ وہ سنت کو منتقل کرنے اور احادیث کی شرح کرنے والے ہیں، اور یہ وہ ہیں جنہو ں نے اس علم کی وضاحت فرمائی۔ جہاں تک بات ہے ان مسائل کی جن میں ان سے غلطی ہوئی تو وہ اس نسبت سے بہت قلیل ہيں جتنے مسائل میں وہ صواب و صحیح راہ پر تھے اور جن میں انہوں نے آئمہ سنت کی پیروی کی تھی۔
اگرچہ (کتاب فضل الاسلام از شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے اس باب) میں یہ بات مختصر ہے لیکن اس میں وہ کچھ ہے کہ جس کی وجہ سے ایک انسان بدعت سے ڈرتا سہمتا ہے۔ پس واجب ہےکہ سنت کی راہ پر چلنے کی بھرپور کوشش کی جائے ۔ جس بات میں بھی کوئی شک شبہہ ہو اسے چھوڑ دو، آپ کو اس راہ پر مضبوطی سے چلنا چاہیے جس پر سب کا اتفاق ہو کہ یہ سنت ہے، وہ راہ جس کے بارے میں علماء مسلمین کہتے ہيں کہ بے شک یہ ہی سنت ہے۔ پس اس سے مضبوطی سے چمٹ جاؤ اورلازم پکڑو۔ جبکہ جو مختلف راہیں اور مناہج ہیں جن میں آپ کو شک محسوس ہوتا ہے، یا ا ن کے بارے میں واضح نہيں کہ وہ سنت میں سے ہے، تو ان سے خبردار رہو اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں آپ اس میں اہل بدعت کے ساتھ مشارکت کرنے والے نہ بن جائيں۔ یہ وہ اصو ل ہے جس کا لحاظ رکھنا ہم پر واجب ہے۔ کیونکہ بدعت سے اور مختلف راہوں سے خوف کھانا کہ جو اللہ تعالی کی صراط مستقیم نہیں ہیں ، ایک ایسا خوف ہے جس کے نتیجے میں ہم اسے چھوڑیں گے، ان کا بائیکاٹ کریں گے، اس سے دور رہيں گے اور اہل بدعت سے بھی اجتناب کریں گے۔
[شرح فضل الاسلام]
عقیدہ واسطیہ کی شرح، صحیح عقیدہ و منہج، سنت وبدعت کے بارے میں مزید علم حاصل کرنے کے لیے ہمارا پیٹری اون سبزکرائب کیجیے
مدرس سے براہ راست آن لائن کلاسس کے لیے رابطہ کیجیے
[1] اشعری اور ماتریدی کلامیہ فرقے ہیں جو اللہ کے اسماء و صفات میں تاویلات کرنے والے مشہور بدعتی فرقے ہیں۔
[2] العقيدة الواسطية ضمن مجموع الفتاوى 3/177-179.
[3] فرقۂ ناجیہ یعنی آگ سے نجات پانے والا فرقہ، اور طائفہ منصورہ مطلب اللہ تعالی کا مدد یافتہ گروہ۔

