TariqBrohi

کتب ستہ لکھنے کے مقاصد – مولانا محمد گوندلوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کتب ستہ کے اغراض ومقاصد

كتب حديث کے جمع کرنے کی اغراض مختلف ہیں ہر كتاب کے مؤلف کی غرض وہی ہے جسے اس نے کتابِ حدیث کی تالیف میں پیش نظر رکھا ہے۔

صحیح بخاری

امام بخاری رحمہ اللہ کی غرض صحیح بخاری کو جمع کرنے سے یہ ہے کہ لوگوں کے لیے صحيح احادیث کا مجموعہ پیش کیا جائے تاکہ ان کے لیے احادیث نبویہ پر عمل کرنا آسان ہو، دوسرا یہ کہ احادیث نبویہ سے مختلف فقہی احکام کا استنباط کرنا تاکہ صحیح بخاری کے پڑھنے والوں میں ملکہ استنباط پیدا ہو سکے۔ اور امام بخاری کو خواب آیا تھا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مکھیاں دور کر رہا ہوں تو امام احمد نے اس کی تعبیر یہ کی کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کذب کا ازالہ کریں گے (یعنی جن غیر صحیح احادیث کی آپ کی جانب منسوب کیا جاتا ہے) اور صحیح احادیث کو ضعیف سے جدا کریں گے۔ یہ تعبیر بھی صحیح بخاری کو جمع کرنے کا باعث بنی کیونکہ حدیث کی پہلی کتابوں میں ہر طرح کی روایات جمع کی گئی تھیں اور امام اسحاق بن راہویہ نے امام بخاری سے کہا کہ احادیث کا ایک مجموعہ ہونا چاہیے جس میں صرف صحیح و ثابت احادیث ہی درج کیا جائے تاکہ لوگوں کے لیے احادیث نبویہ پر عمل کرنا آسان ہو جائے ۔ یہ بات بھی امام بخاری کے لیے صحیح بخاری کو لکھنے کا باعث بنی۔

صحیح مسلم

امام مسلم رحمہ اللہ کا مقصد ایک موضوع سے متعلق صحیح احادیث کو ایک مقام پر جمع کرنا ہے۔ تاکہ عمل کرنے میں بھی آسانی ہو اور اگر کوئی طالب حدیث ایک عنوان سے متعلق تمام احادیث کو حاصل کرنا چاہے تو اسے وہ احادیث ایک جگہ پر جمع شدہ مل جائیں، صحیح مسلم میں ابواب تو امام مسلم کے قائم کردہ نہیں ہیں (امام نووی وغیرہ نے أبواب قائم کیے ہیں) لیکن اس کے اندر ایک موضوع سے متعلق احادیث کا مجموعہ انسان کے سامنے آ جاتا ہے۔

جامع ترمذی

امام ترمذی رحمہ اللہ کا مقصد ائمہ کے مذاہب کو بیان کرنا ہے کہ ایک مسئلہ کے متعلق امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب کیا ہے اور امام مالک رحمہ اللہ، وغیرہ کا کیا مذہب ہے۔ لہذا ترمذی شریف کے پڑھنے سے انسان کو مذاہب کا علم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ جامع ترمذی کافی ہے مقلد کے لیے بھی اور مجتہد کے لیے بھی، مجتہد کے لیے اس لیے کافی ہے کہ اسے اس میں احکام ومسائل کا مواد مل جاتا ہے اور مقلد کے لیے یوں کافی ہے کہ اسے سب مذاہب کا علم ہو جاتا ہے اور جس مذہب کا وہ مقلد ہے اس کا قول اختیار کر لیتا ہے۔

سنن ابی داود

امام ابو داود رحمہ اللہ کا مقصد اختصار کے ساتھ مستدلات ائمہ کو بیان کرنا ہے ان کا قول ہے کہ میں نے پانچ لاکھ روایات سے اس کا انتخاب کیا ہے، حالانکہ سنن ابی داود میں احادیث کی تعداد چار ہزار سے کچھ زائد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ہر باب میں صرف ایک حدیث ذکر کروں گا، ہاں بوقت ضرورت ایک سے زائد احادیث بھی لے آتے ہیں ورنہ ایک حدیث لانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ تاکہ کتاب مختصر رہے، اور اس سے ابو داود کے قاری کو ائمہ کے مستدلات کا بھی علم ہو جائے۔

سنن نسائی

امام نسائی رحمہ اللہ کی غرض احادیث میں پائی جانے والی علتوں کی چھاننی کرنا ہے، تاکہ معلول روایات کا علم ہو جائے، گویا نسائی شریف پڑھنے والے کو علت و معلول جیسی سب چیزیں معلوم ہو جاتی ہیں۔

سنن ابن ماجہ

ابن ماجہ کو دیکھا جائے تو اس میں ان اغراض میں سے کوئی چیز نہیں پائی جاتی نہ اس میں مذاہب ذکر ہوئے ہیں نہ احادیث کی توثیق و تضعیف پائی جاتی ہے، اس میں انسان کو خود غور و فکر سے کام لینا پڑتا ہے۔ اور رواۃ حدیث کو دیکھنا پڑتاہے کہ وہ کس قسم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تاکہ اس کے مطابق ان کی روایت کردہ حدیث پر صحت وسقم کا حکم لگایا جاسکے۔

ابن ماجہ کے پڑھنے سے اگرچہ قاری کو مصنف رحمہ اللہ کی کوئی غرض معلوم نہیں ہوتی کہ جمع احادیث میں ان کے پیش نظر کون سا مقصد تھا تا ہم اس میں احادیث کو ابواب کے تحت لایا گیا ہے اس باب بندی سے استنباط احکام و مسائل کا علم تو ہو جاتا ہے۔

[منحۃ الباری شرح صحیح البخاری ج 1 ص 54]

احادیث اور شروحات کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سبزکرائب کیجیے

patreon.com/tariqalibrohi

براہ راست استاد سے پڑھنے کے لیے رابطہ کیجیے

+923426393064

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے