بسم اللہ الرحمن الرحیم
اکثر لوگوں کا تجربہ رہا ہے کہ ہم کسی گناہ پر نادم ہوکر پرعزم توبہ کرتے ہیں، تو جلد ہی واپس اس کے کرنے کا موقع مل جاتا ہے حالانکہ پہلے اتنی سہولت سے نہیں ملا کرتا تھا! ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔
دراصل ہم دنیا کو توجھوٹا یقین دلا سکتے ہیں کہ ہماری توبہ سچی ہے لیکن اللہ تعالی کے ہاں اخلاص کے ساتھ اسے ثابت کرنا پڑتا ہے، جو سچا تائب ہوتا ہے تو وہ موقع ملنے پر بھی پرہیز کرتا ہے۔ فرمان باری تعالی ہے:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ، وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ، اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ اَنْ يَّسْبِقُوْنَا، سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کے بس یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لے آئے ہیں انہيں چھوڑ دیا جائے گا اور ا ن کی آزمائش نہ ہوگی! حالانکہ یقیناً ہم نے ان کو بھی آزمایا جو ان سے پہلے تھے، تو اللہ ضرور معلوم کرکے رہے گا کہ کون اپنی بات میں سچے ہیں اور ضرور معلوم کرکے رہے گا کہ کون جھوٹے ہیں۔ یا جن لوگوں نے برے اعمال کیے یہ سمجھ بیٹھے ہيں کہ ہم سے بچ نکلیں گے؟! کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔[1]
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ
کیا تم نے گمان کررکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ (ابھی تو وہ موقع آیا نہیں کہ) اللہ نمایاں کردے انہیں جو جہاد کرتے ہیں اور انہیں بھی جو صبر کرتے ہيں۔[2]
گناہوں سے بچ کر نفس کے خلاف جہاد ہوتا ہے، اسی طرح صبر کی ایک قسم گناہوں کی لذت سے منہ پھیر کر اپنے نفس کو مارنے پر صبر کرنا بھی ہے۔
صحابی مرثد بن ابی مرثد الغنوی رضی اللہ عنہ بہت طاقت ور تھے اور ہجرت کے بعد مکہ سے مدینہ مسلمان قیدیوں کو مشرکین کی قید سے نکال کر اٹھا لایا کرتے تھے، ان کی دور جاہلیت کی ایک آشنا دوست عناق تھی۔ ایک چاندنی رات میں جب وہ اسی مہم پر گئے تھے تو عناق نے ان کا سایہ دیکھ کر پہچان لیا اور کہا رات میرے پاس گزارو ، لیکن انہوں نے صاف کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ جس پر اس نے شور مچا رکر مشرکین کے ہاتھوں انہیں پکڑوانا چاہا اور وہ اللہ کی رحمت سے بہت مشکل سے غار میں پناہ لے کر بچے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عناق سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی تو آیت نازل ہوئی کہ مومن کسی مشرک اور زانیہ سے نکاح نہیں کرتا۔[3]
یہ ہی وجہ ہے کہ جو اس دنیا کی آزمائش میں کامیاب ہوگیا، آخرت کی آزمائش جب سورج ایک میل قریب ہوگا، لوگ پسینے میں ڈوب رہے ہوں گے، پچاس ہزار سال کا دن ہوگا تو یہ انسان اس آزمائش سے بچ کر اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سات خوش نصیبوں میں اس شخص کا بھی ذکر فرمایا کہ جسے بڑے منصب والی خوبصورت عورت برائی کے لیے بلائے اور اس کے پاس یہ آسان موقع دستیاب ہو پھر بھی وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔[4]
اللہ تعالی ہم سب کو سچی توبہ کرنے اور علانیہ اور خفیہ ہر حال میں اس کا تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
[1] العنکبوت: 2-4۔
[2] آل عمران: 142۔
[3] ابو داود 2051، الترمذی 3177، النسائی 3230۔
[4] صحیح بخاری 1423۔


