بسم اللہ الرحمن الرحیم
میرا بچپن کراچی کے مشہور و معروف محلے گزری نزد کلفٹن میں گزرا۔ کچھ عرصہ پہلے میں آن لائن ٹیکسی سروس کےذریعے جب کراچی میں کہیں جارہا تھا تو ڈرائیور مینگل نام کا میرے نام کے ساتھ بروہی دیکھ کر خوش ہوا (کیونکہ مینگل بروہیوں کی ہی ایک ذیلی شاخ ہے) باتوں باتوں میں جب بچپن کی بات چھڑی تو معلوم ہوا کہ میں جس محلے میں پیدا ہوا، پلا بڑھا، وہاں جو پڑوسی میرا ہم نام بروہی لڑکا ہوا کرتا تھا یہ اسی کے بڑے بھائی ہيں۔ سبحان اللہ! سمجھیں کہ قریب 35 برس سے زائد عرصے کے بعد کسی پڑوسی سے یوں ملاقات ہوئی۔ اور بچپن کی تمام یادیں دل میں تازہ ہوگئيں۔
دراصل بچپن کے بارے میں سوچ کر ہی انسان کا دل تلملانے لگتا ہے، کیا حسین بے فکری کی زندگی ہوا کرتی تھی۔ حالانکہ تمام بچوں کا بچپن ایک سا نہیں ہوتا مختلف بچوں کو کٹھن اور بے رحم حالات کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے، مگر پھر بھی معصومیت اور زمانے کی تلخی سے ناآشنائی کی قدرے مشترک باقی رہتی ہے۔ نہ کسی ماضی کا رنج نہ مستقبل کی پرواہ یہاں تک کہ کسی سے کچھ دیر میں ختم ہوجانے والی ناراضگی او رجھگڑے یا حادثات و چوٹیں تک کھیل کود کی خوشی کے سامنے ماند پڑجاتی ہیں۔پاکیزہ اور صاف دل ودماغ کوئی منافقت، دکھلاوا، خودغرضی، حسد و کینہ نہيں۔
واقعی بہت بڑے ظالم ہوتے ہيں وہ لوگ جو بچوں سے ان کی معصومیت چھین کر ان کے ساتھ بدسلوکی یا بدفعلی میں ملوث ہوتے ہيں۔ پھول جیسے بچوں کو روندنا انتہاء درجے کا نفسیاتی و شیطانی مرض ہے۔
جب چھوٹے گلی محلے میں کوئی گٹا کینڈی (بمبئی کینڈی/لاچی) فروخت کرنے والا بھی بچے کو عظیم خوشی دینے والا انسان ثابت ہوتا ہے۔جوچھوٹی سی لکڑی پر انہیں مختلف قسم کی دلفریب شکلیں بناکر دیا کرتا تھا۔

جب بڑے صدموں میں سے یہ بھی ہوتا ہے کہ امی جان تیار ہورہی ہيں باہر مارکیٹ جانے کے لیے، لیکن ہمیں لے جانے کا کوئی ارادہ نہيں، اسی دھڑکے کے ساتھ بے چین گھوم رہے ہيں کہ کہيں اچانک غائب نہ ہوجائيں۔
محلے کے بچوں کو کسی خاص کھیل کی چیزوں کی بھی ضرورت نہيں ہوتی تھی، کوئی بھی کھیل خود سے بنا لیتے،برف پانی اور ناجانے کیا کچھ۔ اسکرین کے سامنے بیٹھے رہنےوالی زندگی کا تصور ہی نہیں تھا نہ ہی دستیاب تھی۔ گزری کےمشہور فٹبال گراؤنڈ کے ایک جھولے پر بیٹھ کر شام سورج غروب ہونے کا منظر بہت اچھا لگتا تھا۔
شام جلدی گھر واپس جانا بھی ضروری تھا۔ ویسے وہاں سامنے ایک کوٹھی کے بارےمیں مشہور تھا کہ عرب لوگوں کی ہے وہاں جنات ہوتے ہیں!! ایسے بھوت بنگلے ہر محلے میں مشہور ہوتے تھے۔
آجکل ہم سوچتے ہیں بچے کی صحت اور نشوونما کے لیے اسکرین سے ہٹا کر قدرتی ماحول کے قریب کھیلنے کودنے کا موقع دینا چاہیے، جبکہ موجودہ دور کے فتنوں کے سبب بچوں کے اغواء ہوجانے کا بھی خدشہ لگا رہتا ہے۔ اور پہلے کی طرح کھلے عام بچوں کو چھوڑنے سے لوگ کتراتے ہیں۔ اگرچہ ایسے واقعات پہلے بھی ہوا کرتے تھے مگر موجودہ نت نئے شیطانی دھندوں کے سبب ان میں شدت آچکی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ میں اپنے چھوٹے بھائی سمیت کسی پڑوسی کے ساتھ دور ساحل سمندر گھر پر بتائے بغیر نکل گیا تھا ، عمر بھی بہت چھوٹی ہوگی پانچ سال کے لگ بھگ، گھر پر ایک کہرام مچ گیا تھا اور اللہ کا شکر ہے کہ سورج ڈھلے کسی طرح ہم گھر پہنچ ہی گئے۔
ویسے تو میں اکثر جوائنٹ فیملی نظام کے خلاف لکھتا ہی رہتا ہوں جو کہ درست بھی ہے۔ البتہ بعض خواتین کو اس کا یہ فائدہ ہوجاتا ہے کہ بچوں کے دیگر رشتہ دار جیسے دادی غیر شادی شدہ پھوپھیاں وغیرہ بچوں کی دیکھ بھال و پرورش میں بہت بڑی مدد ثابت ہوتی ہیں۔ اور زندگی اپنے اتار چڑھاؤ کے ساتھ کچھ گوشوں میں آسانی و ذہنی سکون کے ساتھ گزرتی ہے خصوصا ً جب بچے چھوٹے ہوں، اور خاتون خانہ کو بھی باہر کام کرنے کی نوبت آن پڑی ہو یا باپ بیرو ن ملک روزگار کی تلاش میں غائب ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی برحق ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین (اور ماحول جو ان ہی کا دیا ہوتا ہے) اس پر اثر انداز ہوکر اسے مختلف ادیان و نظریات کا، اسی طرح اخلاقیات و کردار کاحامل بنادیتا ہے۔
اسی طرح ایک استاد کا طلبہ کی نظریاتی سمت کا تعین کرنے اور کردار سازی میں بڑا کردار ہوتا ہے، طلبہ اپنے اساتذہ سے فطری طور پر متاثر ہوتے ہیں اور دوسروں کی بنسبت ان کی بات کو قبول کرنے کے لیے زیادہ مستعد رہتے ہیں۔ کتنے ہی ایسے اچھے اساتذہ ہیں جنہوں نے اپنے طلبہ کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے اور وہ دنیا میں ایک نامور شخصیت بن گئے۔ افسوس کہ یہ جذبہ بھی تعلیمی نظام کےخالص معاشی سرگرمی بن جانے سے مرتا جارہا ہے۔
یوں بچپن ایک طرف ختم ہورہا ہو اور آپ جوانی کی طرف بڑھ رہے ہوں تب رفتہ رفتہ آپ کو لوگوں کی تلخیوں اور ستم ظریفیوں کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔ اللہ کے سہارے بعض مضبوط شخصیات اس سے کم سے کم متاثر ہوئے دنیا و آخرت کی کامیابی کے سفر پر رواں دواں رہتی ہيں، اور کچھ اس کے شکنجے میں پھنس کر شعوری یا لاشعوری طور پر دنیا وآخرت کا نقصان مول لیتی ہیں۔
ان بچوں کا ایک الگ ہی المیہ ہوتا ہے کہ جن کے باپ ان کے بچپن کے اہم ترین برسوں میں ان کے ساتھ نہیں رہتے، ماں معاشرے میں بچوں کے پیچھے ہر جگہ نہيں جاسکتی، کس قسم کے دوست ہیں کیا ماحول ہیں، جس کی وجہ سے باپ ہوتے ہوئے ان کا باہر کے معاشرے میں یتیموں جیسا حال ہوجاتا ہے اور وہ ان کے رحم و کرم پر پروان چڑھتے ہیں۔
اس لیے میری تمام عقل مند لوگوں سے التماس ہے کہ بچپن میں کبھی اپنے بچوں کےاوپر سے اپنا سایہ اٹھا کر نہ چلے جایا کریں خواہ کتنی ہی مجبوریاں ہوں، وہ اس نقصان اور محرومی کا مداوا نہيں بن سکتی، اور بعد میں عمر بھر کا پچھتاوہ رہے گا۔
بہرحال بچپن تو سب کا ہی اپنے اپنے طور پر حسین یادوں کے ساتھ گزر ہی جاتا ہے خواہ ناز ونعم میں پلے ہوں، یا حسرتوں میں ترستے گزرے ہوں، مشترکہ کھیل کود، بے فکری ، صاف دلی اور معمولی سی بات پر خوش وخرم ہوکر بہل جانا تو سب کو ہی نصیب ہوجاتا ہے۔
لیکن یہ بچپن پھر کبھی لوٹ کر نہيں آتا، ہاں منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کی طرح اپنے بچوں کو ان ہی محرومیوں سے گزارنے کے بجائے کہ ہم بھی ان سے گزرے ہیں، مثبت سوچ رکھ کر انہیں وہ سب کچھ جھیلنے سے بچانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے جن کا آپ کو سامنا ہوا ہو۔
اللہ تعالی تمام لوگوں کو اور ان کی اولاد و ذریت کو وہ کچھ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جو ان کے اور دوسروں کے لیے دنیا و آخرت میں مفید ہو ناکہ نقصان و پچھتاوے کا باعث ہو۔


