TariqBrohi

ہمارے شیخ صاحب نے فرمایا!

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میں بچپن میں جس اسکول میں  پڑھتا تھا اس کے قریب ہی ایک ہزارہ گوٹھ تھا جہاں کی اکثر آبادی شیعہ تھی۔ ان کے لڑکے بھی اسکول میں خوب بدمعاشی غنڈہ گردی کیا کرتے تھے۔ لیکن ایک قدرے خوش مزاج میرا ہم جماعت تھا۔ کبھی کبھار  کوئی دینی بات بھی چھڑ جاتی، ایک دفعہ وہ کہنے لگا پتہ ہے آج محرم کی مجلس میں ذاکر صاحب نے بتایا کہ جو شرک کرتا ہے  اس کی معافی نہیں اور وہ جہنم میں جائے گا!!

میں نے کہا: تو یہ آج ان کے کہنے پر پتہ چل رہا ہے یا ثابت ہوا ہے؟! یہ تو پہلے سے قرآن مجید میں موجود ہے۔

علماء بے شک دین پہنچانے اور اس کی حفاظت کا ذریعہ ہيں، ہر صدی میں مجدد تک دین  کی مردہ سنتوں کو تازہ کرنے کے لیے اللہ تعالی بھیجتارہتا  ہے۔ لیکن اس طور پر نہیں کہ ان کی بذات خود مطلق اطاعت ہوتی ہے یا محض شخصیت ہی حق و باطل کا معیار ہے۔ یہ درجہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں اگر اللہ تعالی امام بخاری و مسلم رحمہما اللہ کو پیدا نہ بھی کرتا تو دین میں سے کچھ ضائع نہ ہونے دیتا، دوسرے طریقے سے اس کی اسناد کی حفاظت کروادیتا۔

مندرجہ بالا واقعے کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہيں کہ ان کے پیر فقیر حضرت جی جو بات فرمادیں جب جاکر انہيں یقین آتا ہے یا ان کو وہ نئی معلومات لگتی ہیں اور بہت بڑا اور عظیم وزنی کلام لگتا ہے ، حالانکہ یا تو وہ جھوٹ ،بدعات و خرافات پر مبنی ہوتا ہے، اور اگر سچی بات بھی ہوتی ہے تو وہ پہلے ہی کتاب و سنت میں اس سے بھی بہترین انداز میں موجود ہوتی ہے، اور اکثر تو معمولی سے بات ہوتی ہے۔ انسان بھی سوچتا ہے اس میں آخر کیا تیر مارا گیا ہے۔

شیخ عبید الجابری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلفی تو صرف اس ترازو کو معصوم مانتے ہیں یعنی نص (قرآن و سنت) اور اجماع، باقی سب کی باتوں کو اس پر تولہ جاتا ہے۔ لہذا سلفی عقیدے کا تعارف ہی یہ ہے کہ کتاب و سنت کو مجموعی فہم سلف صالحین کے مطابق سمجھنا۔

ناجانے کب سے شخصیات سے اوپر نصوص کو رکھنے  کی امتیازی صفت کے حاملین اہل حدیثوں سلفیوں میں بھی یہ باتیں سرائیت کرگئيں۔ جی شیخ صاحب، امیر صاحب، مولانا صاحب نے یہ فرمایا ہے، جواپنے تئیں اہل سنت کے آئمہ اربعہ تک کے اقوال سے متاثر نہیں ہوتے، وہ اپنے امیر صاحب کی بات کو جو بسا اوقات سلفی منہج کے بھی خلاف ہوتی ہے پتھر پر لکیر جیسی اہمیت دیتے پھرتے ہیں، ہزار دلائل براہ راست آیات و احادیث فہم سلف کے ساتھ دے دو لیکن نہیں مانتے، کہتے ہیں: وہ شیخ الحدیث کیا ا س کا علم نہیں رکھتے! انہوں نے فرمایا ہے کہ: اہل بدعت سےتعاون کرو، حکومت مخالف مظاہرات بھی کرو وغیرہ۔

ہمارا اصل مقصود لوگوں کی ہدایت ہے توحید و سنت کا پرچار اور شرک وبدعات کا قلع قمع کرنا ہے، اگر اہل علم کا کلام نقل کرتے ہوئے بغیر فتنے کے مقصود حاصل ہوتا ہے تو الحمدللہ، ورنہ براہ راست نصوص کسی پر حجت تمام کرنے کے لیے کافی ہیں، علماء کی قدر اور آپ کے اپنے تحصیل علم کے لیے ان کی جانب رجوع کی اہمیت اپنی جگہ لیکن لوگوں کو دعوت حق منوانے کے لیے سلفی اس طرح سے محض شخصیات کو مسلط نہیں کررہے ہوتے ۔

لہذا اگر دعوت حق منوانے میں صرف نام رکاوٹ بن رہا ہو تو کبھی کبھار حکمت کا تقاضہ ہوتا ہے کہ اس کے بغیر بھی بات پہنچ جائے تو خیر ہے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر جب محمد رسول اللہ لکھتے ہیں تو مشرکین اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ہم رسول مانتے تو پیروی نہ کرلیتے اور ان کے خلاف جنگ کیوں کرتے، چنانچہ صرف محمد بن عبداللہ لکھیں، علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہو ں نے گوارا نہ فرمایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھی جگہ معلوم کرکے خود اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔ اور اللہ تعالی نے  اسے فتح مبین قرار دیا ، پس  جلد ہی مکہ فتح ہوگیا اور یہ سب جوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہوکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاں نثارصحابہ بن گئے۔

یا جیسا کہ شیخ عبداللہ القرعاوی رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ان کے ایک استاد ہمیشہ اپنے درس میں شیخ محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ کو برا بھلا کہتے، لیکن ان کی کوئی کتاب بذات خود نہیں پڑھی تھی۔ایک دفعہ وہ حکمت اپناتے ہوئے بغیر جلد کے کتاب التوحید ان کے پاس لائے اور کہا یہ کتاب پڑھیں مجھے اچھی لگی، ذرا دیکھیں کیسی ہے۔ کچھ دن بعد ان سے پوچھا تو کہا ہاں مجھے لگتا ہے یہ شاید امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ کی کتاب ہوگی، وہ ہی انداز ہے، آیات واحادیث ونصوص۔ پھر انہوں نے اس کا سرورق  دکھایا کہ یہ تو شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی ہے، اس کے بعد سے وہ ان کی تعریف کیا کرتے تھے۔

ہمارے اس سوشل میڈیا دور کے سلفیوں میں بہت سی اچھی چیزوں کو جذبات سے بھرے یا مغرض قسم کے سلفیوں نے تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے جیسے:

 صحیح منہج کی اہمیت

علماء کی جانب رجوع

 کسی کے پاس علماء کا  تزکیہ ہونا 

 ترجمہ کی تصدیق و نظر ثانی کس نے کی وغیرہ۔

جبکہ حقیقت حال یہ ہوتی ہے کہ کسی نے ذاتی رنجش یا کسی پرانے بدلے کی آگ میں جل بھن کرکے  توڑ مروڑ اور کھینچ تان کر  عام سی بات کو منہج کا مسئلہ بنادیا ہوتا ہے، حد ہے یعنی کافی پینی چاہیے یا چائے؟ اس کو بھی منہج کا مسئلہ بنادیا! آپ کو یہ بات مبالغہ آرائی یا مضحکہ خیز لگے گی، لیکن شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ پر جھوٹی تہمتوں میں سے یہ بھی تھی کہ وہ  اور ان کے پیروکار قہوہ پینے کو حرام اور سگریٹ پینے والے کو مشرک کہتے ہیں!

تزکیے کے معاملے کو لے لیں: اُن کے اور اِن کے فی الوقت شیخ کے درجے پر فائز شخصیت کے کسی الہامی کلام کے منتظر رہے بغیر یہ سادہ سی بات ہے کہ اگر کسی سلفی کہلائے جانے والے کے واقعی عقیدہ ومنہج میں شکوک و شبہات ہيں، یا وہ جو چیزیں پڑھا رہا ہے اس میں ملاحظات ہیں، تو پھر کسی قابل اعتماد سلفی عالم کا جو واقعی کسی کو جانتا ہو تزکیہ طلب کرلیا جاتا ہے،  یہ نہيں کہ کسی انسان کا طلبِ علم کرنا کچھ پتہ ہی نہیں اچانک سے سلفی منظر نامے میں لانچ کرنے کے لیے تزکیات کی خانہ پوری بطور دھمکی اپنے ہی ہم عقیدہ و منہج لوگوں پر تان کر رکھنا  کہ:  اگر ہماری ہاں میں ہاں نہ ملائی تو  ابھی ایسے شیخ سے تیرا رد کروائيں گے کہ!!! جی ہاں ایسا شیخ کہ جسے نہ تیرا پتہ، نہ تیرے شہر ملک کا، نہ تیرے کہے گئے کلام کا پس منظر، بس وہ توپ بھر کر انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کس پر رد داغنا ہے، بس نام بتاؤ ابھی Aiفضاء سے گزرتا ہوا  سب زبانوں میں ترجمہ ہوکر فٹا فٹ سوشل میڈیا کی زینت بنے گا، جس میں ایسی زبانیں بھی شامل ہوں گی جس سے اس شیخ کا دور پرے کا بھی واسطہ نہیں، نہ اس زبان والے صحیح العقیدہ لوگوں کوان حضرت  حفظہ اللہ کے فضائل بلکہ وجود کا ہی کوئی علم ہے۔

کتنا عجیب منظر ہے ناں ساتھیو! آپ کے ساتھ آپ کا برسوں کا کوئی سلفی دوست ہوگا بلکہ مشہور طالب علم تک ہوگا، جس کے عقیدے ومنہج و دروس وتراجم سب آپ جانتے ہوں گے، شاید پڑوسی تک ہوں گے، اس کے ساتھ سفر کیے ہوں گے، لیکن چونکہ وہ آپ کے من پسند فتنے ،جو اس کے دین دنیا کے لیے نقصان دہ ہے، میں نہیں پڑنا چاہتا، تو اپنے جانے پہچانے بھائی کو بھی زبردستی کا انجان قرار دے کر، سمندر پار جزیروں سے  کسی فضیلۃ الشیخ کی اس کے بارے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ نشر کروائيں گے۔ یقین جانیں عقل سے پیدل ان کی پیروی بھی کریں گے، نعوذ باللہ! جیسے وحی کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر کردی جاتی تھی اور آنکھوں دیکھی چیز کو بھی صرف اور صرف ان کے کہے پر آپ جھٹلا سکتے ہيں، جیسا کہ  ان تین صحابہ کا واقعہ جو جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے اس پر شاہد ہے، ایک صحابی نے اپنے چاچا زاد بھائی کو پکڑ کر کہا تم مجھے نہیں جانتے کیا میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں کرتا؟! لیکن  انہوں نے یہی کہا کہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہيں۔ اور یہ درجہ بہرحال کسی ایسے فضیلت مآب کو حاصل نہيں ہے۔

علماء کی جانب رجوع کے حسین عنوان سے بھی اپنے یا اپنوں کے آگے جھکانا مطلوب ہوتا ہے چاہے جس مزعوم عمل کو علماء کی جانب رجوع باور کروایا جارہا ہوتا ہے وہ علم سے متعلق اِکادُکا شخصیات ہوتی ہیں، ویسے لطیفہ یہ بھی ہےکہ عربی میں عالم کی جمع علماء ہے اور عربی میں جمع کم از کم تین سے شروع ہوتی ہے!

اور ہاں ترجمہ کس نے کیا ہے! دین میں احتیاط کے اس صحیح منہج کو بھی بعض لوگوں نے عجوبہ بنا چھوڑا ہے ، لکھا ہوگا "اللہ اکبر” جس کا مطلب  بچے بچے کو پتہ ہےکہ : اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس پر اسے علم میں کم  لیکن جذبات میں زیادہ سلفی جوان پکڑ لیں گے کہ یہ کس نے ترجمہ کیا ہے؟ جناب میں نے کیا ہے ، اچھا تو پھر نظر ثانی کس نے کی ہے؟ تصور کریں دو لفظی جملہ جو اردو تک میں مستعمل ہے  ساتھ میں منسلک لسٹ کہ : ترجمہ کردہ فلاں ،ساتھ معاون فلاں  اورنظر ثانی فلاں کی، اس مضمون سے بڑی تویہ فہرست ہوگی۔

اہل علم کے کلام کو صحیح مقام پر حکمت کے ساتھ رکھنے کے بارے میں رہنمائی خود علماء کرام فرماتے ہیں

شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ سے سوال ہوا: کیا جو شخص دعوت الی اللہ کا کام کرتا ہے اس کے لیے یہ شرط ہے کہ اس کے پاس اہل علم کا لازمی طور پر تزکیہ ہو؟

جواب: کسی انسان کے لیے لائق نہیں کہ وہ بنا علم کے لوگوں سے کلام کرے یا پیش قدمی کرے۔ لیکن یہ لازم نہیں کہ اس کے پاس تزکیہ ہو۔۔۔لازم نہیں کہ اس کے پاس تزکیہ ہو۔ لیکن اگر اس کا معاملہ مجہول ہو اور لوگ اس سے مطمئن نہ ہوں ،اور وہ اس کا تعارف حاصل کرنا چاہیں جبکہ وہ ان کے نزدیک مجہول ہو ، اور وہ بعض معروف لوگوں کے توسط سے اس کا تعارف حاصل کرنا چاہیں جو ایسی بات کریں کہ جس سے واضح ہو کہ یہ شخص واقعی اہل ہے،  اور اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔۔۔ورنہ اگر انسان میں قدرت ہو، دسترس حاصل ہواور کوئی ایسا محذور (رکاوٹ کا سبب) بھی نہ ہو، تو اس کے لیے جائز ہے (دعوت دے، درس دے)اگرچہ اس کے پاس تزکیہ نہ ہو۔

اور ہر وہ شخص جس کے پاس علم میں سے کچھ ہو وہ اسے پیش کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً

میری طرف سے پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔

سوال: اگر یہ شرط نہیں کہ اس کے پاس تزکیہ ہو تو پھر کیسے معلوم ہوگا کہ فلاں داعی دعوت کا اہل ہے بھی کہ نہيں خصوصاًاگر اس نے علماء کرام کے پاس نہ پڑھا ہو؟

جواب: اگر کوئی مجہول انسان ہے تو اس کے معاملے میں توقف اختیار کیا جائے ۔ لیکن اگر وہ مجہول نہیں معلوم ہے اور اپنے فائدے پہنچانے کے اعتبار سے معروف ہے ۔ برابر ہے کہ وہ اس طور پر معروف ہو کہ اس نے باقاعدہ رسمی طور پر پڑھا ہے، تعلیم حاصل کی ہے اور اہلیت رکھتا ہے(یا اس طور پر نہ پڑھا ہو)۔ کیونکہ انسان کبھی علم عام عادت کے مطابق  رائج طریقے سے حاصل کرتا ہے ،تو کبھی خاص طور پر(آجکل تو کچھ آن لائن بھی حاصل کرلیتے ہیں)۔ اس لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان کے پاس کسی تعلیمی ادارے کی سند ہو یعنی وہ کسی کلیہ سے فارغ التحصیل ہو، یا اس نے کسی شیخ کے پاس طویل عرصہ ملازمت اختیار کی ہو۔ چنانچہ جس کسی کے پاس علم میں سے کچھ بھی ہو اور اسے اس پر عبور حاصل ہو، خواہ ایک علمی فائدہ ہی کیوں نہ ہو جو اس نے کسی عالم سے اخذ کیا ہو تو وہ اسے کسی غیر تک پہنچا دے۔

شیخ ربیع بن ہادی المدخلی  رحمہ اللہ سے سوال ہوا:

کسی طالب علم کو کب یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کہے میرے نزدیک یہ راجح ہے یا میں یہ اعتقاد رکھتا ہوں یا کب اسے حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ درس کا حلقہ بنائے، بہت سے نوجوان مجالس کی صدارت کرنے (درس دینے) میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں، آپ کی اس بارے میں کیا نصیحت ہے؟

جواب: میری سلفی نوجوانوں کو یہ نصیحت ہے کہ وہ تحصیل علم وتعلیم کی خاطر کمر بستہ ہوجائیں  لیکن اگر ان کے ملک، شہر یا علاقے میں سب جہلاء ہوں علماء نہ ہوں لیکن کوئی طالب علم وہاں موجود ہو اور جو کچھ تھوڑا بہت علم اس کے پاس ہے لوگوں کو اس کی احتیاج ہو تو میری یہی رائے ہے کہ اسے چاہیے کہ جو کچھ علم اس کے پاس ہے اسے پہنچائے۔ ہم نوجوانوں پر اس طور پر امور میں پابندی نہیں لگا دیتے کہ وہ اپنے سامنے دنیا کو خرافات، جہالت اور شرک میں ڈوبا ہوا دیکھ رہا ہو اور ہم اس سے یہ کہیں کہ لوگوں کو تعلیم دینے کے لیے آگے نہ بڑھو جب تک امام ابن تیمیہ یا احمد بن حنبل رحمہما اللہ کے درجے تک نہ پہنچ جاؤ!

فرمان الہی ہے:

وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ  (الانعام: 119)

حالانکہ بلاشبہ اس(اللہ) نے تمہارے لیے وہ چیزیں کھول کر بیان کر دی ہیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، مگر جس کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ۔

جیسا کہ شرعی قاعدے میں کہا جاتا ہے کہ: ’’الضرورة تبيح المحظور‘‘ (منع کردہ چیز ضرورت کے پیش نظر مباح ہوجاتی ہے)۔

یعنی اگر وہ کسی گاؤں میں ہے دیکھتا ہے  بدعات کواور نماز ترک کرنے کواور وہ جانتا بھی ہے کہ بدعات کیا ہیں اور سنتیں کیا ہیں اور دیگر احکام کی حقیقت کیا ہے تو وہ نوجوانوں کو علم میں سے کچھ تعلیم دے۔ انہیں قرآن کریم میں سے کچھ پڑھا دے جیسے تجوید، وہ کتب پڑھا دے جو اس نے پڑھی جیسے الأصول الثلاثة، كتاب التوحيد۔میں اس بات کی حمایت نہیں کررہا ہے کہ طالب علم اپنے آپ کو عالم کے منصب پر بٹھا دے۔ نہیں، بلکہ اگر اشد ضرورت ہو اور اس کے سوا کوئی عالم ہی دستیاب نہ ہو اور اس کے پاس علم میں سے کچھ ہو تو جو کچھ بھی علم میں سے اس کے پاس ہے اسے آگے پہنچائے۔ او راللہ کے دین کے بارے میں کبھی بھی جہالت کے ساتھ بات نہ کرے ۔ حتی کہ کسی عالم تک کہ لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالی کے ذمے سوائے حق کے اور کوئی بات کہےسورۃ الاعراف آیت 33 میں اللہ تعالی پر بلاعلم کے بات کرنا حرام قرار دیا گیا ہے اور یہ اکبر الکبائر ہے بلکہ کفر باللہ سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ کفر، گمراہی اور بدعات پیدا ہی اس اللہ تعالی پر بلاعلم کے بات کرنے سے ہوتے ہیں، چنانچہ یہ  أخبث الخبائث و أكبر الكبائرہے خواہ کسی عالم سے صادر ہو یا جاہل سے۔

پس اگر وہ دیکھے کہ لوگ اس کے پاس جو قلیل علم ہے اس کی جانب محتاج ہیں تو وہ فقط اپنی علمی حدود کے اندر رہتے ہوئے بات کرے اپنے حد سے تجاوز نہ کرے۔ اگر اس سے ایسی چیز کے متعلق سوال کیا جائے جس کا اسے علم نہ ہو تو کہہ دے ’’الله أعلم‘‘ اور کہے ’’لا أدري‘‘ (مجھے نہیں معلوم)۔ بڑوں کے بڑے،  آئمہ کے امام تک کہا کرتے تھے ’’لا أدري‘‘ یہاں تک کہ امام مالک رحمہ اللہ کے کبار تلامیذ میں سے ایک فرماتے ہیں کہ: اگر میں چاہوں اپنی تختیاں امام مالک کے قول ’’لا أدري‘‘ سے بھر دوں تو بھر جائیں گی (یعنی اس کثرت سے ’’لا أدري‘‘ کہا کرتے تھے)۔۔۔ بہرحال ایک عالم کو چاہیے کہ وہ اپنے تلامیذ کی ’’لا أدري‘‘ کہنے پر تربیت کرے، کیونکہ یہ نصف علم ہے۔اھ

بلکہ موجودہ دور میں تو سلف کی کتب پر علماء کے ہی براہ راست دورس اپنے وطن میں بیٹھا انسان سن سکتا ہے، جو نہ سن سکے تو کتابی شکل میں اسے نشر کردیا جاتا ہے، گویا کہ وہ اس عالم کی ہی بات سن پڑھ رہا ہے جس تک اسے رسائی حاصل نہیں ہوپائے۔ ناکہ محض محمد علی مرزا انجنئیر کی طرح علمی کتابی کی رٹ لگا رہا ہے اور اپنے خودساختہ فہم کتا ب وسنت کا نشر کررہا ہے۔ بلکہ مزے کی بات جو حضرات آپ کو کہہ رہے ہوں گے تمہارے پاس ہمارے ٹویٹ(ایکس) والے عالم کا تزکیہ نہيں، وہ خود بھی ان کےسامنے زانوئے تلمذ طے کرنے والے نہيں ہوں بلکہ بس ٹیوٹس پر گزارا کرنے والے ہوں گے۔

شیخ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالی کے فضل وکرم سے قرآن مجید اور احادیث کی کتب کے ترجمے ہوچکے ہیں، ان کی طرف رجوع کریں، ان کا مطالعہ کریں اور حق کی تلاش جاری رکھیں۔ یقیناً رب العالمین ہادی اکبر جل شانہ آپ کی رہنمائی فرمائے گا، جیساکہ اس کا وعدہ ہے۔۔۔

قرآن کے تراجم اور تفاسیر عام ہوچکی ہيں اور احادیث کے تراجم اور تشریحات بھی بے شمار موجود ہیں یعنی وحئ الہی سے (براہ راست) فیض حاصل کرنا بالکل آسان ہوچکا ہے۔اس لیے اہل حدیث اپنے لیے اس بات میں اپنی انتہائی ذلت اور رسوائی سمجھتے ہیں کہ قرآن وحدیث کو چھوڑ کر امتیوں کے اقوال وآراء پر گزارہ کریں۔۔۔

ناظرین! اہل حدیث کے تمام افراد جو باقاعدہ عالم نہيں ہیں وہ بھی عوام الناس میں شمار نہيں ہوتے، کیونکہ وہ قرآن وحدیث کے تراجم دیکھ کر مسائل معلوم کرسکتے ہيں۔اھ

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

کیونکہ ظاہر ہے کسی عالم کی کتاب خود اسی عالم کے ہی قائم مقام ہے۔ گویا کہ وہ اپنی کتاب کے ذریعہ سے آپ سے بات کررہا ہوتا ہے۔اگر علماء سے براہ راست علم حاصل کرنے میں عذر درپیش ہوں تو کتب سے علم حاصل کرلینا چاہیے۔

البتہ جو کہتا ہے کہ: ’’من کان دلیله کتابه فخطؤه اکثر من صوابه‘‘ (جس کی دلیل (علماء کے بجائے محض) اس کی کتاب ہو تو اس کی غلطیاں اس کے صواب سے زیادہ ہوتی ہیں) تو یہ نہ مطلق طور پر صحیح ہے اور نہ ہی مطلق طور پر غلط۔

اگر انسان ہر ملنے والی کتاب سے علم حاصل کرتا ہے تو بلاشبہ اس کی غلطیاں بہت ہوں گی۔لیکن اگر کوئی کتب سے تعلیم حاصل کرنے کے سلسلے میں ثقاہت، امانت وعلم میں معروف علماء کی کتب پر اعتماد کرتا ہے ، تو ایسے کی غلطیاں زیادہ نہیں ہوتی، بلکہ وہ اکثر باتوں میں صحیح ہوتا ہے۔

دوسرے مقام پر سوال ہوا: بعض طالب علم اپنے دروس اور تحصیل علم کے سلسلے میں علماء کی کیسٹیں سننے پر اکتفاء کرتے ہیں ، کیا یہ تحصیل علم کے لیے کافی ہیں؟ کیاوہ طالب علم شمار کیا جائے گا؟ کیا اس کا اثر اس کے اعتقاد پر پڑسکتا ہے؟

جواب: بلاشبہ یہ کیسٹیں اس کے لیے کافی ہیں اگر اس کے لیے اہل علم کے پاس حاضر ہونا ممکن نہ ہو ورنہ علماء کرام کے پاس حاضر ہونا افضل واحسن ہے اور فہم ومناقشہ کے زیادہ قریب ہے، لیکن اگر اس کے لیے حاضر ہونا ممکن نہ ہو تو یہ کافی ہوں گی اس کے لیے۔

سوال: اگر وہ اسی پر اقتصار کرتے ہيں تو کیا اس صورت میں وہ طالب علم کہلائیں گے؟

جواب: ہم یہ کہیں گے کہ : ہاں ممکن ہے اگر انسان بہت زیادہ اَن تھک محنت کرے۔ جیسا کہ یہ ممکن ہے انسان کے لیے کہ وہ کتابوں سے علم حاصل کرکرکے عالم بن جائے لیکن کتب وکیسٹوں سے علم حاصل کرنے اور براہ راست علماء کرام سے علم حاصل کرنے میں فرق ہے۔ علماء کرام سے براہ راست علم حاصل کرنا تحصیل علم کا زیادہ اقرب طریقہ ہے، کیونکہ یہ سہل طریقہ ہے جس میں آپ کے لیے مناقشہ کرنا ممکن ہے برخلاف سننے والے یا پڑھنے والے کے، کیونکہ اسے علم کے تمام اطراف کو جمع کرنے اور ان کا حصول کرنے کے لیے بہت زیادہ محنت ومشقت کی ضرورت پڑتی ہے۔

البتہ سائل کا یہ کہنا: کیا محض کیسٹیں سننے پر اکتفاء کرنا اس کے اعتقاد پر اثر انداز ہوسکتا ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ:

ہاں اس کے عقیدے پر اثر انداز ہوسکتا ہے اگر وہ اہل بدعت کی کیسٹیں سنیں اور اس کی پیروی کرنے لگیں۔ لیکن اگر وہ صرف قابل اعتماد وثقہ علماء کرام کی کیسٹیں ہی سنتے ہيں، تو یہ ان کے عقیدے پر اثر انداز نہیں ہوگا، بلکہ ان کو ایمان، رسوخ اور صحیح عقیدے کی اتباع میں اور بڑھا دے گا۔

بعض نوجوانوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ صرف کتابوں سے علم حاصل کرپائے ہیں اور جتنا پڑھا ہے اتنی تعلیم دیتے ہیں، تو فرمایا:

ان پر واجب ہے کہ وہ صواب بات جاننے کے لیے ضرور کوشش ومحنت کریں۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ کسی انسان کہ لیے یہ بالکل بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ مشایخ کے بنا عالم یا مجتہد نہیں بن سکتا۔ ایسے بھی علماء گزرے ہیں کہ وہ علم کی بلندیوں کو پہنچے حالانکہ انہوں نے مشایخ سے علم حاصل نہیں کیا۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ ایسا قلیل وشاذ ونادر ہی ہوتا ہے۔

پھر پوچھا گیا: شیخ ہمارے ملک یا شہر میں علماء یا کبار طلاب العلم موجود نہیں ، پس کیا اگر کوئی طالب علم، علم میں سے کچھ سیکھ لے تو کیا وہ دوسروں کو در س دے سکتا ہے، اس علت کی بنا پر؟

جواب: میرا یہ اجتہاد ہے کہ غیر اہل شخص کا درس دروس کے لیے اپنے آپ کو آگے کرنا غلطی ہے۔ جیسا کہ ہم نے آپ سے کہا اس میں بہت سے خطرات ہیں کہ اگر کوئی لوگوں پر دروس دینے کی نشست سنبھالتا ہے اگرچہ عوام علم میں اس سے بہت کم ہوں، اور وہ کہے کہ میں ان سب کا شیخ ہوں، اور ہر علم والے سے بڑھ کر ایک علم والا ہوتا ہے اور میں ان سے برتر ہوں، لیکن پھر وہ خود اپنے آپ کے لیے مشکل کھڑی کردے گا۔ ہاں، البتہ اگر کوئی ایسا تقویٰ وورع والا انسان ہو جو لوگوں کو علم دینے کے لیے بیٹھ جائے، اوراگر اس سے کسی ایسے مسئلے سے متعلق پوچھا جائے جس کا اسے علم نہ ہو تو صاف کہہ دے کہ ہم اس بارے میں فتویٰ نہیں دے سکتے اور وہ علماء کرام سے پوچھے، تو یہ اچھی بات ہے۔اھ

شیخ عبیدالجابری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مختلف ذرائع تزکیہ کے میں ایک یہ  بھی ہے کہ:

1- اس کا علم ہی اس کا تزکیہ ہو جو اس کی کتب کی صورت میں منشور ہو اس کے دل و زبان کا ترجمان وآئینہ دار ہو، اور اس سے اس کے سوا اور کچھ منقول نہ ہو۔

2-  وہ اپنے علم میں بالکل صاف ستھرے اور سیدھے طریقے سے چلتا جائے اور اسے کسی ایسے جارح کی جرح کا سامنا نہ ہو جو اپنی جرح کو ثابت کرتا ہو یا اس کے شذوذ، منفرد وعجیب وغریب مسائل کی وجہ سے اس کی مخالفت کی جائے۔

ایک اور موقع پر فرماتے ہیں:

میری علمی او رعملی زندگی پچاس سال سے بھی زائد ہوچکی ہے الحمدللہ، مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی زندگی میں کسی دن کسی سے کہا ہو کہ مجھے تزکیہ دو۔ انسان کا تزکیہ تو اس کے اعمال دیتے ہیں۔ اگر عقیدہ ومنہج کے اعتبار سے کوئی سنت پر قائم ہے اور انہی کی جانب دعوت دیتا ہے تو اللہ تعالی اس کا تزکیہ کردے گا کہ اس کے لیے لوگوں کے سینے کھول دے گا، اس کی دعوت کو قبول عام حاصل ہوگا، پھر اس علاقے کہ فضلاء اس صاحب دعوت کو پہچاننے لگیں گے، جاننے لگیں گے کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اگر وہ کہتا ہے: قال الله وقال رسوله اور انہیں احکام الہی کی تعلیم دیتا ہےتو وہ اس کے اردگرد جمع ہوجائیں گے اور اس پر مجتمع ہوجائیں گے، ان کی طرف سے اسے قبول عام حاصل ہوگا، ان کے  ہاں اس کا ایک مقام ومرتبہ ہوگا، اور ہر کوئی اس کا ذکر خیر ہی کرے گا۔ یہ سب تزکیات ہیں۔ اگر میں کسی مسجد والوں کے پاس جاؤں اور وہ مجھ سے تزکیہ طلب کریں تو میں انہیں چھوڑ کر چلا جا‎ؤں گا اور کسی ایسے بندے کو لے آؤ گا جس کا وہ کلام قبول کریں، اس کی بات سنیں، اس کے آگے خاموش ہوں، اور اس کے علاوہ دوسروں کو چھوڑ دیتے ہوں جو اسے برا بھلا کہتے ہوں اور عناد رکھتے ہوں۔اھ

شیخ زید المدخلی رحمہ اللہ سے سوال ہوا: جیسا کہ آپ کو دیار کفر میں رہنے والے مسلمان نوجوانوں کی حالت کا علم ہے کہ ان میں سے اکثر عجمی ہیں جو عربی زبان نہیں سمجھتے۔ تو مثلاً ہمارے علاقے میں ایک بھائی ہیں جو علماء کرام کا کلام ان کی کتب سے بھائیوں کو ترجمہ کرکے سناتے ہیں۔چھوٹی مختصر کتب جیسے شرح اصول الثلاثہ از شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اور کچھ دیگر کتب۔ لیکن ان  پر بعض کی طرف سے تنقید کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مخصوص تزکیہ ہونا لازم ہے جیسےسعودی عرب کے کبار سلفی علماء کی طرف سے، آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب: اس بار ے میں میں یہی کہوں گا کہ جس کسی کے پاس دین اسلام اور فقہ اسلامی کے علوم میں سے کچھ علم ہو اور اسے اس پر عبور حاصل ہو تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ وہ دوسروں کو تعلیم دے بلکہ اسے تو اجر ملے گا اگر وہ دوسروں کو تعلیم دے گا۔ اور یہ شرط نہیں کہ لازمی طور پر وہ کسی کا تزکیہ لے کر آئے لیکن یہ ضرور ہے کہ اسے دیکھا جائے گا کہ وہ لوگوں کو پڑھا کیا رہا ہے؟ اگر وہ انہیں اسی چیز کی تعلیم دے رہاہے جو صواب وصحیح ہے، یعنی شرعی احکام ان کے دلائل کے ساتھ سکھاتا ہے، تو یہی چیز مطلوب ہے۔ چنانچہ یہ شرط نہیں کہ ضرور اس کے پاس کسی شیخ کا تزکیہ ہو۔ ہاں اگر وہ غلطی کرتا ہے تو کسی ایسے کا موجود ہونا ضروری ہے جو اس کی غلطی کا رد کرے(اب تو بہت سے دروس طلبہ انٹرنیٹ پر نشر کرتے ہیں جو ہر خاص و عام سن سکتے ہيں اور ملاحظات پیش کرکے اصلاح کرسکتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ بعض اپنے ہی سلفی بھائی کے گھات میں بیٹھے ہوتے ہيں کہ یہاں غلطی ہو تو فوراً وہاں بجائے اس سے رابطہ کرکے اصلاح کی کوشش کرنے کے، خوش ہوتے ہيں کہ چلو اب اس کا رد کروانا آسان ہوگیا، اس کا تو منہج ہی ٹھیک نہيں تھا)۔ پس اگر وہ غلطی کرجاتا ہےتواس کے لیے جائز نہیں کہ وہ لوگوں کو ایسی بات پڑھائے جو کہ صحیح وصواب نہیں۔

حدیث میں ہے ایک آیت بھی ہو تو میری طرف سے پہنچا دو یعنی یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس کسی کے پاس معمولی سا بھی علم ہو اور لوگوں کو اس کے علم کی ضرورت ہو، تو اس پر واجب ہے کہ وہ اسے پہنچا دے، اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس پر تنقید کرے ، الا یہ کہ وہ اسے دیکھیں کہ یہ لوگوں کو گمراہ کررہا ہو، اللہ تعالی کے ذمے بلاعلم کے بات کررہا ہو، بلا علم کے فتویٰ دے رہا ہو یا بلا علم کے قاعدے گڑھ رہا ہوتو :

اولاً: یہ سب کرنا اس کے لیے جائز نہیں ۔

ثانیاً: اس پر خاموش رہنا بھی درست نہیں، بلکہ اسے نصیحت کی جائے گی کہ وہ مزید علم حاصل کرتا رہے یہاں تک کہ اس درجے کو پہنچ جائےکہ لوگوں کو صحیح تعلیم دے۔

لہذا اسے روکنا صحیح نہیں اگر وہ صحیح بات کررہا ہو اسی طرح سے اگر وہ غلطی کرے تو اس کی توثیق وتصدیق کرنا صحیح نہیں۔اھ

 

یہ تمام گزارشات پیش کرنے کے بعد میرا ان لوگوں سے الگ خطاب ہے کہ جو ہر چیز میں سے اپنے پہلے سے بنے منفی ذہن کے مطابق نتائج اخذ کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ یقیناً کہیں گے دیکھو یہ کہہ رہا ہے کہ کوئی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لینے پر بھی اعتراض کرتا ہو تو اسے نہ لو! حالانکہ ایسا کسی نے نہیں کہا، اور کوئی کہہ بھی کیسے سکتا ہے یہ تو دین اسلام کی بنیادی شرط اور شہادتین کا حصہ ہے، مقصود یہ نہیں ہے، اصل مقصود مختلف موقع محل کے اعتبار سے حکمت اپنانا اور صحیح قواعد کو ان کے صحیح مقام پر رکھنا۔  جیسے مشرکین کے خودساختہ خداؤں تک کی برائی بتانے سے اس موقع پر روک دیا جب وہ پلٹ کر جہالت میں اللہ تعالی کو برا بھلا کہنے لگیں۔

ورنہ تو خوارج بھی آیت قرآنیہ سے استدلال کرتے تھے مگر سلف کا فہم اس کے جواب میں یہ تھا جیسا کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کلمہ تو حق ہے مگر اس سے لی گئی مراد باطل ہے۔

اسی طرح اس سے پہلے کہ اہل بدعت سے سلوک کرنے کے بارے میں سلف کے اقوال کی اپنے ہی سلفی منہج کے ادنیٰ سے طالب علم کے خلاف کاپی پیسٹ  لمبی قطار لگا دی جائے کہ : دیکھو سلف بھی شخصیات کو معیار بناتے تھے امام احمد رحمہ اللہ کو اور فلاں کو صحیح غلط میں فرق کرنے کے لیے،لوگوں میں تمیز کرنے کےلیے، اور تم کہہ رہے ہو لوگ فلاں عالم کے نام کے بغیر بس براہ راست توحید و سنت قبول کرلیں تو قابل قبول ہے، یہ سلف کا منہج نہیں!

شیخ ربیع رحمہ اللہ کی اس نصیحت پر غور کیجیے:

آپ کے نزدیک محض یہی کلی قاعدہ نہیں ہونا چاہیے کہ بس ہجر،ہجراورہجریعنی بنیادکیا ہے؟ بس ہجر(بائیکاٹ)! حالانکہ اساس کیا ہے؟ لوگوں کی ہدایت اور لوگوں کو اس خیر میں داخل کرنا۔  ہجر کے معاملے کو بسااوقات غلط طور پر سمجھا گیا ہے۔ اگر آپ تمام لوگوں سے ہی ہجر کرجائیں گے تو پھر سنت میں کون داخل ہوگا؟  اگر ہم ہجر کے ذریعے اپنے اور ان کے درمیان یہ دیواریں کھڑی کرلیں گے اور ایسے بند باندھ دیں گے (تو کون آئے گا)۔ ایسی ہجر تو میرے پیارے بھائیو!  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے دور میں ہوا کرتی تھی۔ جب دنیا سلفیوں سے بھری ہوتی تھی۔ اگر امام احمد رحمہ اللہ کہہ دیں کہ فلاں بدعتی ہے تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور اس کا معاملہ ختم ہوجاتا۔ لیکن اب سلفیہ آپ کے ہاں  ایسے ہے جیسے کالے بیل میں سفید بال۔  تو ہجر نہیں کیا جائے گا مگر صرف متکبر ومعاند بدعتی سے۔ لیکن جو ان کے دھوکے میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ تھوڑا تحمل سے معاملہ کیا جائے، انہیں حکمت اور اچھے وعظ ونصیحت کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ کی طرف بلایا جائے، یقیناً ان میں سے بہت سے لوگ اس دعوت کوقبول کریں گے۔اھ

تو زمان  ومکان کے فرق ، لوگوں کے ذہنی مستوی کا فرق بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے۔

شیخ عبید الجابری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا بدعتی یا حزبی رشتہ داروں کو دعوت دیتے ہوئے ہم اپنے علماء کے نام ذکر کرتے ہيں تو وہ بات سننے کو تیار نہيں ہوتے، کیونکہ ان کے خلاف لوگوں نے ذہن سازی کررکھی ہوتی ہے۔۔۔

آپ نے فرمایا:۔۔۔میں اس سائل کے اہل وعیال کو تو نہيں جانتا، لیکن میں اسے یہی نصیحت کروں گا کہ وہ ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے اور اچھے معاملات رکھے، اور انہیں حق بات بیان کرے۔ کیونکہ یہ بات ہمارے نزدیک پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے کہ وہ بعض لوگ جو جہالت میں حزبیت کا شکار ہوجاتے ہیں وہ عوام ہیں، یا انہی کے دام فریب میں آئے ہوئے لوگ ، یا جن پر معاملہ مشتبہ وملتبس کردیا گیا ہے۔ پس صبر،کشادہ دلی  اور حکمت سے الحمدللہ بہت سے لوگ پلٹ آئے ہیں۔

لہذا میں اس سائل کو نصیحت کروں گا کہ وہ اپنے اہل وعیال کو نصیحت اور حق بیان کرنا جاری رکھے۔ اور انہیں سنت کے ساتھ قابو کرے۔ فلاں فلاں پر کلام کو چھوڑ دو۔ جن سے حزبی لوگ نفرت میں بھرے ہوئے ہیں ان کے سامنے ان کی تعریف نہ کرو۔ (کم از کم) ان کے سامنے نہ کرو اگرچہ اپنے دل میں تو محبت رکھو، لیکن ان کے سامنے مثلاً شیخ ربیع المدخلی وغیرہ اور جو ان کے علاوہ بھی حزبیوں کو پسند نہیں ، لیکن آپ کو اور اہل سنت کو محبوب ہيں ان کی تعریف نہ کرو(جیسے ہمارے ہاں شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کا نام سن کر وہابی کہہ کر بات ہی نہيں سنتے کچھ لوگ)۔ ان کی کوئی چیز پیش نہ کرو نہ ان کی کیسٹیں لاؤ۔ بلکہ اپنے اہل وعیال کو سنت سے قابو کرو، ان کے سامنے سنت بیان کرو، اور میں ضامن ہوں اللہ تعالی کی مدد وتوفیق سے کہ اگر آپ سنت کے ذریعے ان کے دلوں تک رسائی حاصل کرلیں گے اور وہ اس سنت سے محبت کرنے لگیں گے تو عنقریب وہ ان سے بھی محبت کرنے لگیں گے جن سے وہ بغض رکھتے تھے۔ 

لیکن جاتے ہی سب سے پہلے یہ شروع ہوجانا فلاں شدید نفرت کے لائق حزبی ہے  اور فلاں صاحب سنت علامہ ہے تووہ یہ قبول نہیں کریں گے، ایسا نہ کریں آپ، بلکہ اپنے آپ کو کچھ آزاد کردیں۔ یعنی اگر ممکن ہو تو کہیں:  آؤ میں بھی چھوڑتا ہوں اپنوں کو جیسے شیخ ربیع وغیرہ اور فلاں فلاں کو ان سے آزاد ہوکر بات کررہا ہوں، چھوڑ دیں ان کی بات کو (فی الحال) کوئی مسئلہ نہيں الحمدللہ، اور تم بھی اسی طرح سے اپنوں کو چھوڑو جیسے فلاں فلاں اور سلمان العودۃ، عائض القرنی، سفر (الحوالی) اور فلاں فلاں کو ان سے آزاد ہوجاؤ۔ چھوڑو کہ ہم دونوں سنت کی طرف چلتے ہیں، کیا تم سنت کا انکار کرتے ہو؟ نہيں بالکل نہيں، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہيں کہے گا ، کبھی نہیں کہے گا۔ بلکہ جواب دے گا ٹھیک ہے بسم اللہ جو بھی اس (عالم) کے پاس ہے وہ سنت ہی تو ہے۔ پھر بتدریج اسے لے کر چلتے جائيں وہ عنقریب سنت اور اہل سنت سے محبت کرنے لگے گا، اور ان شاء اللہ اس کاان اہل سنت سے بغض محبت میں تبدیل ہوجائے گا اور وہ عنقریب ان (حزبی) لوگوں سے دستبرداری کرلیں گے۔

لیکن جو یونہی ان کے پاس دھڑلے سے اعلان جنگ کرتا ہوا چلا آئے یہ بدعتی ہے گمراہ حزبی قابل نفرت اور وہ صاحب سنت ہے، تو وہ کبھی بھی ایسے قبول نہیں کریں گے۔ ایسا شخص جن کی طرف جارہا ہے ان کے بارے میں صحیح حکمت عملی اپنانے والا نہيں خصوصا ًعوام الناس کے بارے میں۔اھ

شیخ صالح الفوزا ن حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

جیسا کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ اپنے قصیدے الکافیہ الشافیہ میں فرماتےہیں کہ:

علم تو وہ ہے جو اللہ نے فرمایا، رسول نے فرمایا، صحابہ نے فرمایا۔۔

لہذا یہ ہے علم۔ علم کتاب و سنت کا نام ہے۔ جہاں تک بات ہے علماء کے اقوال  کی تو وہ فقط اس کی تشریح و وضاحت  ہوتے ہیں، یعنی اللہ کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کی۔ اور ان میں یا ان میں سے بعض میں غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ دلائل علماء کرام کے کلام نہيں ہيں، دلائل تو صرف آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ ہیں۔ اور رہا علماء کا کلام تو وہ اس کی شرح و وضاحت ہے اور اسے کھول کر بیان کرنے والا ہے، ناکہ وہ خود اپنے آپ میں دلیل ہے۔

اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اِتِّبَاعَهُ وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے